جو شخص يه خيال كرے كه آدمي اچھا بن كر رهے يا برا بن كر، سب برابر هے۔ آخر كار دونوں هي كو مركر مٹ جانا هے، وه نهايت غلط خيال اپنے دماغ ميں قائم كرتا هے۔ ايسا سمجھنا اس شعورِ عدل كے خلاف هے جو هر آدمي كي فطرت ميں پيدائشي طورپر موجود هے۔ نيز يه كائنات كي اس معنويت كا انكار كرنا هےجو اس كے نظام ميں كمال درجه ميں پائي جاتي هے۔ حقيقت يه هے كه انسان كي اندروني فطرت اور اس كے باهر كي وسيع كائنات دونوں اس كو سراسر باطل ثابت كرتے هيں كه زندگي كو ايك ايسي بے مقصد چيز سمجھ ليا جائے جس كا كوئي انجام سامنے آنے والا نهيں۔