فانما يسرناه بلسانك لعلهم يتذكرون ٥٨
فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ٥٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 58 { فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰــہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ } ”تو اے نبی ﷺ ! ہم نے اس قرآن کو آسان کردیا ہے آپ کی زبان پر ‘ تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔“ قرآن کی زبان بہت فصیح وبلیغ ہونے کے باوجود بڑی سادہ اور آسان ہے۔ بعض مصنفین دقیق اور ثقیل الفاظ استعمال کر کے قارئین پر اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ عربی کی کتاب ”مقاماتِ حریری“ پڑھیں تو اس میں آپ کو بھاری بھر کم اور نامانوس الفاظ کی کثرت سے محسوس ہوگا کہ شاید کتاب لکھنے سے مصنف کا مقصود صرف اپنے ذخیرہ الفاظ کا مظاہرہ کرنا ہی ہے۔ بہر حال قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کا مقصد بنی نوع انسان کو ہدایت دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو نعوذ باللہ قرآن کی عبارت کے ذریعے سے اپنی زبان دانی کی مہارت کا مظاہرہ کرنا مقصود نہیں تھا۔ چناچہ اس کتاب میں اگر ایک طرف ہمیں فصاحت و بلاغت کی معراج نظر آتی ہے تو دوسری طرف اس کی عبارت میں سہل ممتنع اور سادگی کا اعجاز بھی دکھائی دیتا ہے۔