You are reading a tafsir for the group of verses 44:9 to 44:16
بل هم في شك يلعبون ٩ فارتقب يوم تاتي السماء بدخان مبين ١٠ يغشى الناس هاذا عذاب اليم ١١ ربنا اكشف عنا العذاب انا مومنون ١٢ انى لهم الذكرى وقد جاءهم رسول مبين ١٣ ثم تولوا عنه وقالوا معلم مجنون ١٤ انا كاشفو العذاب قليلا انكم عايدون ١٥ يوم نبطش البطشة الكبرى انا منتقمون ١٦
بَلْ هُمْ فِى شَكٍّۢ يَلْعَبُونَ ٩ فَٱرْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِى ٱلسَّمَآءُ بِدُخَانٍۢ مُّبِينٍۢ ١٠ يَغْشَى ٱلنَّاسَ ۖ هَـٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ١١ رَّبَّنَا ٱكْشِفْ عَنَّا ٱلْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ ١٢ أَنَّىٰ لَهُمُ ٱلذِّكْرَىٰ وَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌۭ مُّبِينٌۭ ١٣ ثُمَّ تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَقَالُوا۟ مُعَلَّمٌۭ مَّجْنُونٌ ١٤ إِنَّا كَاشِفُوا۟ ٱلْعَذَابِ قَلِيلًا ۚ إِنَّكُمْ عَآئِدُونَ ١٥ يَوْمَ نَبْطِشُ ٱلْبَطْشَةَ ٱلْكُبْرَىٰٓ إِنَّا مُنتَقِمُونَ ١٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اس حد تک قرآن کے مخاطبین کو متاثر کرنے اور جوش دلانے اور حق کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے بعد اب روئے سخن اچانک پھرتا ہے۔ اور تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا جاتا کہ اس عظیم کتاب کی اس سعی کے بعد ان لوگوں کی حالت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی جو تصویر کی گئی ہے اسے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن یہ لوگ اس قدر سنگ دل ہیں کہ اس قدر سنجیدہ کوششوں کے باوجود وہ ابھی تک اس تحریک کو مذاق ہی سمجھتے ہیں۔

آیت نمبر 9 تا 16

فرماتے ہیں کہ یہ تو اس قدر حکیمانہ اور عظیم الشان نظریہ اور نظام کے مقابلے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور ان نشانیوں میں شک کرتے ہیں جو ثابت شدہ ہیں لہٰذا ان کا صحیح علاج یہی ہے کہ ان کو اس دن کے لئے چھوڑ دیا جائے جو بہت ہی سخت اور اعصاب شکن ہوگا۔

فارتقب یوم ۔۔۔۔ مبین (44 : 10) یغشی الناس ھذا عذاب الیم (44 : 11) ربنا اکشف عنا العذاب انا مومنون (44 : 12) “ اچھا انتظار کرو اس دن کا جب آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا ، “ پروردگار ہم پر سے عذاب ٹال دے ، ہم ایمان لاتے ہیں ”۔

سلف صالحین کے درمیان آیت دخان کی تفسیر میں اختلاف رہا ہے۔ بعض نے یہ کہا کہ یہ قیامت کے دن کا دھواں ہے ، یہ دھمکی جو دی گئی کہ اس کا انتظار کرو ، یہ ویسی ہی ہے جس طرح قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر عذاب قیامت کے انتظار کے لئے کہا جاتا ہے اور یہ تو آنے ہی والا ہے۔ لوگ بھی انتظار کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے بھی انتظار فرمایا لیکن بعض لوگوں کا خیال یہ تھا کہ یہ واقعہ عملاً گزر گیا ہے۔ جس طرح قرآن نے دھمکی دی ہے اور پھر جب آیا تو مشرکین حضور ﷺ کے پاس آئے۔ آپ نے دعا فرمائی اور یہ عذاب دور ہوگیا۔ یہاں ہم دونوں اقوال اور ان کی سند نقل کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنا تبصرہ کریں گے۔

سلیمان ابن مہران الاعمش نے روایت کی ہے۔ ابو الضحی مسلم ابن صبیح سے انہوں نے مسروق سے ، یہ کہتے ہیں کہ میں ابواب کندہ کے پاس کوفہ کی ایک مسجد میں داخل ہوا ، ایک شخص اپنے ساتھیوں کے سامنے یہ بیان کر رہا تھا۔

فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین (44 : 10) “ اچھا انتطار کرو اس دن کا جب آسمان صریح دھواں لئے ہوئے آئے گا ”۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ یہ دھواں کیا ہے ؟ یہ ایک دھواں ہے جو قیامت کے دن آئے گا۔ اس سے منافقین اور کفار اندھے اور بہرے ہوجائیں گے۔ اور مومنین پر صرف اس قدر اثر ہوگا جس طرح زکام ہوجاتا ہے۔ اس نے کہا کہ ہم ابن مسعود ؓ کے پاس آئے۔ یہ بات ہم نے ان سے ذکر کی۔ اس وقت یہ تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے تھے ، پریشان ہو کر اٹھ بیٹھے۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ نے تمہارے نبی ؐ سے کہا :

قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ، اور نہ ہی مجھے تمہارے ہدایت کا مکلف بنایا گیا ہے ”۔ یہ بھی بہت بڑے علم کی دلیل ہے کہ اگر کسی کو کوئی بات معلوم نہ ہو تو کہے ، واللہ اعلم ! اس کے بارے میں ، میں تمہیں اصل بات بتاتا ہوں۔ جب قریش نے کسی صورت میں اسلام قبول نہ کیا تو حضور ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ ان پر ایسے سال لے آیا جو یوسف (علیہ السلام) کے دور میں مصر میں آئے تھے۔ چناچہ ان پر جہدو مشقت اور بھوک اور پیاس کے دن آگئے یہاں تک کہ انہوں نے ہڈیاں کھانا شروع کردیں۔ اور مردار بھی کھانے لگے۔ ایسے حالات ہوگئے کہ وہ آسمان کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھتے اور انہیں دھواں ہی دھواں نظر آتا اور بعض روایات میں الفاظ یہ ہیں کہ ایک شخص کی طرف نظریں اٹھاتا اور اسے فضا یوں نظر آتی جس طرح دھواں ہو ، اور یہ بدحالی کی وجہ سے ۔ اس کے بارے میں اللہ نے فرمایا :

فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین (44 : 10) یغشی الناس ھذا عذاب الیم (44 : 11) “ انتظار کرو اس دن کا جب آسمان صریح دھواں لئے ہوئے آئے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا ”۔ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا گیا رسول اللہ سے مضر عربوں کے لئے دعا مانگیں ، کیونکہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ان کے لئے باران رحمت کی دعا مانگی اور بارش ہوئی۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

انا کاشفوا العذاب قلیلا انکم عائدون (44 : 15) “ ہم ذرا عذاب ہٹا دیتے ہیں ، تم لوگ پھر ہی کچھ کرو گے جو پہلے کر رہے تھے ”۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے مزید کہا کیا یہ ہو سکتا ہے کہ قیامت کے دن پر ان پر سے عذاب اٹھایا جائے۔ غرض جب ان کو پھر خوشحالی ملی تو وہ اسی پرانی روش کی طرف لوٹ آئے۔ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

یوم نبطش البطشۃ الکبری انا منتقمون (44 : 16) “ جس روز ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے ”۔ اس سے مراد یوم بدر ہے۔ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ پانچ چیزیں گزریں : دھواں ، روم ، شق قمر ، بطشہ الکبریٰ اور لزام۔ یہ حدیث صحیحین میں مروی ہے۔ امام احمد نے بھی اسے نقل کیا ہے۔ ترمذی اور نسائی نے بھی کتاب التفسیر میں دی ہے۔ ابن جریر اور ابن ابو حاتم نے اعمش سے متعدد طرق سے نقل کی ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن مسعود سے ایک جماعت نے اتفاق کیا ہے کہ دخان کا واقعہ چلا گیا ہے۔ مثلاً مجاہد ، ابو العالیہ ، ابراہیم نخعی ، ضحاک اور عطیہ عوفی اور یہی تفسیر ابن جریر نے اختیار کی ہے۔

لیکن دوسرے لوگوں کی رائے یہ ہے کہ دخان کا واقعہ گزرا نہیں ہے بلکہ یہ قیامت کی علامات میں سے ہو کر آئے اور ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ قیامت اس وقت تک برپا نہ ہوگی جب تک دس نشانیاں نہ ظاہر ہوجائیں : (1) سورج کا مغرب سے طلوع ، (2) دخان ، (3) دابہ ، (4) یا جوج وماجوج کا خروج ، (5) عیسیٰ ابن مریم کا خروج ، (6) دجال ، (7) تین چاند گرہن ، (8) مشرق میں زمین کا دھنسنا ، (9) مغرب میں زمین کا دھنسنا ، (10) جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسنا۔ ایک آگ عدن کی گہرائیوں سے نکلے گی۔ یہ لوگوں کو چلائے گی یا لوگوں کو اٹھائے گی جہاں یہ رات کو ہوں گے وہیں یہ بھی ہوگی جہاں یہ دن کو آرام کریں گے ، یہ بھی آرام کرے گی۔ (مسلم )

علامہ ابن جریر نے روایت کی ہے۔ محمد ابن عوف سے انہوں نے محمد ابن اسماعیل ابن عیاش سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ضیغم ابن زرعہ سے انہوں نے سریج ابن عبید سے اور انہوں نے حضرت مالک اشعری ؓ سے کہ وہ فرماتے ہیں ، فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بیشک تمہارے رب نے تمہیں تین باتوں سے ڈرایا ہے۔ دھواں جو مسلمان کو زکام کی طرح متاثر کرے گا اور کافر پر اثر یہ ہوگا کہ وہ اس سے پھول جائے گا اور وہ اس کی ہر سننے کی جگہ سے نکلے گا۔ دوسری دابتہ الارض اور تیسرا دجال ۔ اس حدیث کو طبرانی نے ہاشم ابن یزید سے نقل کیا ہے۔ اور اس نے محمد ابن اسماعیل ابن عیاش سے اسی متن کے ساتھ (ابن کثیر نے کہا یہ سند جید ہے) ۔

ابن جریر نے روایت کی ہے ، یعقوب سے ، انہوں نے ابن علیہ سے انہوں نے ابن جریج سے انہوں نے عبد اللہ ابن ابو ملیکہ سے ، انہوں نے کہا کہ میں ایک دن سویرے حضرت ابن عباس ؓ کے پاس گیا ، تو انہوں نے فرمایا کہ میں آج رات صبح تک بالکل نہیں سویا۔ میں نے پوچھا یہ کیوں ! آج ایک دمدار ستارہ طلوع ہوا تو مجھے یہ خوف لاحق ہوگیا کہ شاید دھویں کا وقت آگیا ، اس وقت سے میں صبح تک نہیں سویا۔ ابن ابو حاتم نے اپنے باپ سے ، انہوں نے ابن عمر سے انہوں نے سفیان سے انہوں نے عبد اللہ بن ابو یزید سے ، عبد اللہ بن ابو ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے ، اسی طرح روایت کی ہے۔

علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں۔ یہ سند حضرت ابن عباس تک صحیح ہے ، جو اس امت سے بڑے عالم ہیں اور ترجمان القرآن ہیں۔ اور یہی قول اپنایا ہے ، صحابہ وتابعین میں سے ان لوگوں نے جنہوں نے ان سے اتفاق کیا ہے۔ اور اس سلسلے میں کئی مرفوع اور حسن احادیث بھی انہوں نے پیش کی ہیں جن سے پوری تسلی ہوجاتی ہے کہ یہ دھواں جس کا یہاں ذکر ہے یہ ان نشانیوں میں سے ہے جن کا انتظار ہے اور قرآن کریم کا ظاہری مفہوم بھی یہی ہے۔ اللہ نے فرمایا :

فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین (44 : 10) “ انتظار کرو اس دن کا جب آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا ”۔ یعنی دھواں بالکل واضح ہوگا اور اسے ہر شخص دیکھ سکے گا اور حضرت ابن مسعود نے جو روایت کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسانی تخیل تھا اور لوگ بھوک اور مشقت کی وجہ سے وھواں دیکھ رہے تھے۔ پھر یغشی الناس (44 : 11) “ وہ ولوگوں پر چھا جائے گا ”۔ یعنی ان کو ڈھانپ کر اندھا کر دے گا۔ اگر یہ ایک خیال معاملہ تھا اور صرف اہل مکہ نے اسے محسوس کیا تھا تو پھر یغشی الناس کا لفظ استعمال نہ ہوتا۔ پھر آگے ہے۔

ھذا عذاب الیم (44 : 11) “ یہ ہے دردناک عذاب ”۔ یعنی ان سے یہ کہا جائے گا ، بطور سرزنش و ملامت کے جس طرح دوسری جگہ ہے۔

یوم یدعون الی نار جھنم دعا (52 : 13) ھذہ النار التی کنتم بھا تکذبون (52 : 14) “ جس دن انہیں دکھے مار مار کر نار جہنم کی طرف چلایا جائے گا اس وقت ان سے کہا جائے گا ، یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے ”۔

ہو سکتا ہے کہ وہ خود ایک دوسرے سے یہ بات کہیں گے کہ یہ عذاب الیم ہے اور اس کے بعد آیت۔

ربنا اکشف عنا العذاب انا مومنون (44 : 12) “ پروردگار ، ہم پر سے یہ عذاب ٹال دے ، ہم ایمان لاتے ہیں ”۔ یعنی کافر یہ کہیں گے جب انہوں نے دیکھ لیا کہ عذاب الٰہی آگیا اور یہ تو سزا ہے ۔ تو وہ سوال کریں گے کہ اے رب اس عذاب کو ٹال دے ، جس طرح دوسری جگہ اللہ نے فرمایا :

ولو تری اذ ۔۔۔۔ من المومنین (6 : 27) “ کاش تم اس وقت کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے ، اس وقت وہ کہیں گے کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ”۔ اور اسی طرح اس آیت میں بھی یہی مضمون ہے۔

وانذر الناس یوم ۔۔۔۔۔ من زوال ۔ “ اے نبی اس دن سے تم انہیں ڈرا دو جبکہ عذاب انہیں آلے گا۔ اس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ اے ہمارے رب ، ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ، ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے ”۔ کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو ابھی سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے ”۔ زیر بحث آیت سے اگلی آیت میں اللہ فرماتا ہے۔

انی لھم الذی وقد جاءتھم رسول مبین (44 : 13) ثم تولوا ۔۔۔۔ مجنون (44 : 14) “ ان کی غفلت کہاں دور ہوتی ہے ان کا حال تو یہ تھا کہ ان کے پاس رسول امین آیا تھا۔ یہ اس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور کہا “ یہ تو سکھایا پڑھایا باؤلا ہے ” ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کس طرح یاددہانی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، ہم نے ان کی طرف رسول بھیجا ، جس نے واضح طور پر ان کے سامنے دعوت پیش کی۔ ان کو ڈرایا ، اس کے باوجود انہوں نے منہ پھیرلیا۔ اور انہوں نے اس کی کوئی بات نہ مانی بلکہ تکذیب کی اور کہا کہ یہ تو سکھایا ہوا مجنون ہے۔

اس کی مثال بھی قرآن کریم میں ہے۔

یومئذ یتذکر الانسان وانی لہ الذکری (89 : 23) “ اس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اس کے سمجھنے کا کیا حاصل ”۔ اور اسی طرح ایک دوسری آیت میں ہے۔

ولو تری اذ ۔۔۔۔۔ مکان قریب (34 : 51) وقالوا امنا ۔۔۔۔۔ مکان بعید (34 : 53) “ کاش تم دیکھ سکو ، انہیں اس وقت جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے اور کہیں بچ کر نہ جاسکیں گے بلکہ قریب ہی سے پکڑے جائیں گے۔ اس وقت یہ کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لے آئے حالانکہ اب دور نکلی ہوئی چیز کہاں ہاتھ آسکتی ہے۔ مذکورہ بالا آیت نمبر 14 کے بعد یہ آیت آتی ہے :

انا کاشفوا العذاب قلیلا انکم عائدون (44 : 15) “ ہم عذاب ذرا ہٹا دینے والے ہیں مگر تم پھر وہی کرو گے جو پہلے کر رہے تھے ”۔ اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ اگر ہم عذاب کو ہٹا دیں اور تمہیں پھر دنیا میں لوٹا دیں تو تم نے پھر وہی کچھ کرتا ہے جو پہلے کیا ، یعنی کفرو تکذیب اور اس کی مثال دوسری آیات میں بھی ہے۔

ولو رحمنھم ۔۔۔۔۔ طغیانھم یعمھون (23 : 75)

“ اگر ہم ان پر رحم کریں اور وہ تکلیف جس میں آج یہ مبتلا ہیں ، دور کردیں تو یہ اپنی سرکشی میں بالکل ہی بہک جائیں گے ”۔ اور جس طرح دوسری آیت میں ہے :

ولو ردوا ۔۔۔۔ لکذبون (6 : 28) “ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا اور وہ تو ہیں ہی جھوٹے ”۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہو سکتا ہے ، ہم تم سے عذاب کو عملاً روکے رکھتے ہیں یا روکے رکھنے والے ہیں حالانکہ تم سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے چلے جاتے ہو۔ کیونکہ کشف عذاب کے لئے لازم نہیں ہے کہ عملاً ان پر عذاب آبھی گیا ہو۔ دوسری جگہ اللہ نے فرمایا :

الا قوم یونس ۔۔۔۔۔ الی حین (10 : 98) “ ماسوائے قوم یونس کے کہ وہ جب ایمان لائے تو ہم نے اس پر سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا اور اس کو ایک مدت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقعہ دے دیا تھا ”۔ حالانکہ ابھی عذاب نے ان کو چھوا نہیں تھا بلکہ عذاب کے اسباب فراہم ہوگئے تھے۔ قتادہ نے تو یہ معنی لیے ہیں کہ تم عذاب الٰہی کی طرف لوٹنے والے ہو ، آگے آیت ہے۔

یوم نبطش البطشۃ الکبری انا منتقمون (44 : 16) “ جس روز ہم پکڑ دھکڑ کریں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے ”۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے اس کی تفسیر بدرکبریٰ سے کی ہے اور یہ قول کچھ دوسرے لوگوں بھی اختیار کیا ہے جنہوں نے ابن مسعود کے ساتھ اتفاق رائے کیا ہے۔ اور یہی تفسیر حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے۔ ان سے یہ روایت عوفی نے نقل کی ہے اور یہی رائے حضرت ابی ابن کعب کی ہے اور اس کا احتمال بھی ہے لیکن ظاہر بات یہی ہے کہ اس سے بھی مراد یوم القیامہ ہے۔ اگرچہ یوم بدر کفار کے لئے بھی بڑی پکڑ کا دن تھا۔ ابن جریر نے روایت کی ہے ، یعقوب سے انہوں نے ابن علیہ سے انہوں نے خالد حذاء سے انہوں عکرمہ سے کہ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا “ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں بطشۃ الکبریٰ سے بدر کا دن مراد ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ یہ قیامت کا دن ہے ”۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ حسن بصری اور عکرمہ بمطابق صحیح روایت اسی کے قائل ہیں ”۔ یہاں ابن کثیر کا کلام ختم ہوا۔

ہم یہاں حضرت ابن عباس کا قول اختیار کرتے ہیں کہ دخان قیامت کے دن ہوگا۔ اور اس کی تفسیر علامہ ابن کثیر نے بہت اچھی کی ہے۔ یہ کفار کے لئے تہدید اور ڈراوا ہے اور اس کے نظائر قرآن کریم میں بہت ہیں۔ جن کے مطابق یہی مفہوم دوسرے مقامات پر بھی دہرایا گیا ہے۔ اس طرح مفہوم یہ ہوگا یہ لوگ شک کرتے ہیں اور کھیل کود میں مصروف ہیں ، ان کو چھوڑ دیں اور اس دن کا ، خوفناک دن کا انتظار کریں ، جب آسمان سے دھواں آئے گا ، تمام لوگوں کو ڈھانپ لے گا اور یہ کہا جائے گا کہ یہ ہے عذاب الیم۔ اور پھر ان کی فریاد کی تصویر کشی کی گئی کہ اے ہمارے رب ، اس عذاب کو ہم سے دور کر دے ہم ایمان لاتے ہیں اور ان کی اس درخواست کو رد کردیا جاتا ہے کہ اس کی منظوری محال ہے کیونکہ وقت چلا گیا ہے۔ اب یہ نصیحت بھی پاسکتے ہیں ، ان کے پاس تو رسول مبین آگیا تھا اور یہ اس وقت یہ کہتے ہوئے منہ موڑ گئے تھے کہ یہ سکھایا ہوا جادوگر ہے۔ اسے یہ سب کچھ ایک عجمی غلام سکھا رہا ہے۔ اور یہ باطل ہے۔

اس منظر میں جہاں یہ لوگ عذاب کے ٹلنے کی درخواست کرتے ہیں ، ان سے بطور جملہ معترضہ یہ کہا جاتا ہے کہ دیکھو ابھی تو تم دنیا میں ہو۔ فرصت کے قلیل لمحات موجود ہیں اور ابھی تو عذاب سے بچے ہوئے ہو ، ایمان لے آؤ، تمہیں ڈرایا جارہا ہے کہ تم ہی ہوگے جو آخرت میں ایمان لانے پر آمادہ ہوگے مگر وہاں ایمان قبول نہ ہوگا۔ ابھی تو تم امن و عافیت میں ہو اور یہ امن و عافیت دائمی نہیں ہے۔ تم ہمارے سامنے آنے والے (عائدون ) ہو۔

یوم نبطش البطشۃ الکبری (44 : 16) “ جس دن یہ دھواں ہوگا جس کی تصویر کشی قرآن کر رہا ہے اور پکڑ دھکڑ ہوگی تو انا منتقمون (44 : 16) “ تو ہم انتقام لیں گے ”۔ تمہاری اس لاپرواہی کا ، تمہاری اس بہتان طرازی کا ، جو تم رسول اللہ ﷺ پر کرتے ہو اور کہتے ہو ، معلم مجنون (44 : 14) “ سکھایا پڑھایا مجنون ہے ” حالانکہ وہ صادق و امین ہے۔

اس طرح تمام آیات کی تفسیر درست ہوجاتی ہے۔ ہمارے خیال کے مطابق ۔ واللہ اعلم !

٭٭٭٭

اس کے بعد قرآن مجید ان کو تاریخ کی ایک وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا ایک مختصر حصہ ہے اور اس کا خاتمہ اس زمین پر ایک عظیم پکڑ نبطش البطشۃ الکبری (44 : 16) کا نمونہ ہے۔ اس سے قبل جس کا نمونہ ان کو دخان کی نقشہ کشی میں بتا دیا گیا تھا۔