You are reading a tafsir for the group of verses 42:32 to 42:35
ومن اياته الجوار في البحر كالاعلام ٣٢ ان يشا يسكن الريح فيظللن رواكد على ظهره ان في ذالك لايات لكل صبار شكور ٣٣ او يوبقهن بما كسبوا ويعف عن كثير ٣٤ ويعلم الذين يجادلون في اياتنا ما لهم من محيص ٣٥
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِ ٱلْجَوَارِ فِى ٱلْبَحْرِ كَٱلْأَعْلَـٰمِ ٣٢ إِن يَشَأْ يُسْكِنِ ٱلرِّيحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَىٰ ظَهْرِهِۦٓ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّكُلِّ صَبَّارٍۢ شَكُورٍ ٣٣ أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا۟ وَيَعْفُ عَن كَثِيرٍۢ ٣٤ وَيَعْلَمَ ٱلَّذِينَ يُجَـٰدِلُونَ فِىٓ ءَايَـٰتِنَا مَا لَهُم مِّن مَّحِيصٍۢ ٣٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت نمبر 32 تا 35

پہاڑوں کی طرح دریاؤں میں چلنے پھرنے والے بحری جہاز اللہ کی نشانیوں میں سے مزید نشانیاں ہیں۔ یہ نشانی بھی حاضر و مشہود ہے۔ یہ نشانی ایسی ہے جو اللہ کی بنائی ہوئی نشانیوں میں سے کئی نشانیوں پر قائم ہے اور اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ یہ سمندر ، اللہ کے سوا کون ہے جس نے اسے بنایا ؟ انسانوں نے اسے بنایا اور نام نہاد الہٰوں نے ۔ کون ہے جس نے اسے یہ گہرائی ، یہ کثافت اور یہ وسعت دی کہ وہ بڑی بڑی کشتیوں اور جہازوں کے اٹھانے کے قابل ہوگیا۔ پھر جس مواد سے کشتیاں بنتی ہیں ، اس مواد میں ایسی خصوصیت کس نے رکھی کہ وہ سطح سمندر پر تیرتا پھرے اور پھر یہ ہوا جو اس وقت ان بحری جہازوں کو چلاتی تھی اور اس وقت کے مخاطب جانتے تھے اور ہمارے دور میں وہ تمام قوتیں جن کو اللہ نے انسانوں کے لئے مسخر کیا ہے اور وہ انہیں عظیم الجثہ جہازوں کے چلانے کے لئے کام میں لاتے ہیں۔ یہ قوتیں کس نے پیدا کیں جو جدید دے جدید پہاڑوں جیسے جہازوں کو چلاتی ہیں۔

ان یشا یسکن الریح فیظللن رواکد علی ظھرہ (42 : 33) “ اللہ جب چاہے ، ہوا کو ساکن کر دے اور یہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں ”۔ اور بعض اوقات یہ جہاز اس طرح کھڑے رہ جاتے تھے جسے ان کے اندر کوئی زندگی نہیں ہے۔

ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (42 : 33) “ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لئے جو کمال درجے صبر و شکر کرنے والا ہو ”۔ یعنی ان جہازوں کے چلانے میں اور ان کے کھڑے کرنے میں نشانیاں ہیں۔ قرآن کریم میں بسا اوقات صبر اور شکر ساتھ ساتھ آتے ہیں۔ صبر ابتلا پر ہوتا ہے اور شکر نعمتوں پر ہوتا ہے ، خوشی اور غم اور صبر اور شکر دونوں انسانی نفسیات میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

او یوبقھن بما کسبوا (42 : 34) “ یا ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ڈبو دے ”۔ ان کشتیوں کو پاش پاش کر دے یا ان کو غرق کر دے ، اس وجہ سے کہ لوگوں نے گناہوں اور معاصی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے ایمان کی مخالفت کی حالانکہ اللہ کی تمام مخلوقات مومن ہے انسانوں میں سے بعض لوگ انکار کرتے ہیں۔

ویعف عن کثیر (42 : 34) “ اور اللہ بہت سے گناہوں سے در گزر کرتا ہے ”۔ اس لیے وہ لوگوں کو قدم قدم پر ان کے ہر گناہ پر نہیں پکڑتا بلکہ در گزر فرماتا ہے اور معاف کردیتا ہے۔

ویعلم الذین یجادلون فی ایتنا مالھم من محیص (42 : 35) “ اور اس وقت ہماری آیات میں جھگڑا کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے ”۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو اپنے عذاب کے سامنے لا کھڑا کرتا ، ان کی کشتیاں غرق کردیتا اور نہ نجات نہ پا سکتے۔۔۔۔۔ یوں ان کو یہ بات سمجھائی جاتی ہے کہ وہ اس دنیا کے جس سازو سامان اور کاروبار کے مالک ہیں ، وہ بھی اللہ کی ہلاکت کی زد میں ہیں۔ لہٰذا دنیا میں کسی چیز کے لئے قرار و ثبات نہیں ، ماسوائے تعلق باللہ کے۔

٭٭٭

اس کے بعد ان کو ذرا اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ان کو جو سازوسامان دیا گیا ہے ، ذرا اس پر نگاہ ڈالیں کہ یہ کس قدر مختصر وقت کے لئے ہے۔ اور اصل باقی رہنے والی چیز اور دولت وہی ہے جو اللہ کے ہاں ذخیرہ کی گئی ہے۔ اور یہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لاتے ہیں اور رب تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں ۔ یہ بیان آگے جاتا ہے اور اہل ایمان کی صفات گنواتا ہے جو ان کو ایک امت بنا دیتی ہیں ، جس کے الگ خدو خال ہوتے ہیں اور وہ امت تمام امتوں سے ممتاز ہے۔