آیت نمبر 29 تا 31
یہ نشانی ہر وقت انسانی نظروں کے سامنے ہے اور جب وحی آئی تو اس نے اس کی شہادت دی۔ وحی میں تو انہوں نے شک کیا اور جھگڑتے رہے لیکن آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی جو نشانی کی جو نشانی ہے اس میں تو کوئی شک نہیں وہ تو قطعی الدلالہ ہے۔ یہ فطرت انسانی کو فطری زبان میں خطاب کرتی ہے۔ کوئی سنجیدہ گفتگو کرنے والا اس کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں رکھ سکتا۔ یہ نشانی یہ بتاتی ہے کہ جس ذات نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی ہے وہ انسان نہیں ہے۔ نہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی اس نشانی کا خالق نظر آتا ہے۔ لہٰذا کسی خالق و مدبر کے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ اس کائنات کی ہولناک ضخامت ، اس کی رفتار کی باریک اور دقیق یکسانی ، اس کے نظام کا حیران کن تسلسل اور اس پوری کائنات کے اندر ایک ہی قانون طبیعت اور ناموس فطرت کا اجراء ، ان سب امور کی کوئی عقلی توجیہہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ ایک ذات ہے جو الٰہ العالمین ہے ، جو اس کی تدبیر کر رہا ہے۔ رہی انسانی فطرت تو وہ براہ راست اس استدلال کو اور ان نشانیوں کو دیکھ پاتی ہے اور ان کا ادراک کر کے مطمئن ہوجاتی ہے۔ قبل اس کے کہ ایک بھی لفظ کسی خارجی ذریعہ سے سنے۔
آسمانوں اور زمین کی یہ بڑی نشانی اپنے اندر کئی نشانیاں رکھتی ہے۔
وما بث فیھما من دابۃ (42 : 29) ” اور یہ جاندار مخلوقات جو اس نے دونوں جگہ پھیلا رکھے ہیں “ ۔ اس کو چھوڑ دیجئے کہ آسمانوں میں زندگی ہے یا نہیں ، ابھی تک ہمیں اس کا علم نہیں ، البتہ اس زمین کے اندر زندگی کی جو رنگا رنگی ہے یہ ایک نہایت ہی عظیم نشانی ہے۔ یہ ایک ایسا راز ہے کہ ابھی تک اس کی ماہیت تک کوئی نہیں پہنچا ہے۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ کوئی اسے پیدا کرسکے۔ یہ ایک پوشیدہ راز ہے کہ زندگی کہاں سے آتی ہے ۔ کس طرح آتی ہے۔ اجسام کے اندر کس طرح مل جاتی ہے۔ آج تک حیات کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے جس قدر مساعی کی گئی ہیں اس راز کے دریافت کے تمام دروازے بند پائے گئے ہیں جو کچھ دریافت ہوا ، وہ حیات کے بعد زندگی کی ترقی اور نشوونما کے بارے میں ہے۔ زندگی کی رنگا رنگی اور اس کے مقاصد اور حکمتوں کے بارے میں ہے۔ اور اس محدود دائرے میں بھی آراء اور نظریات کا بےحد اختلاف ہے۔ ظاہری زندگی کے پیچھے کیا ہے ، وہ پردۂ کے پیچھے ہے۔ کوئی آنکھ وہاں تک نہیں دیکھ سکتی۔ کوئی قوت مدرکہ اس کا ادراک نہیں کرسکتی۔ یہ امر الٰہی ہے ، اللہ کے سوا اس کو کوئی نہیں جانتا۔
یہ رنگا رنگ زندہ مخلوق جو سطح زمین کے اوپر ہے ، سطح کے اندر ہے اور سمندروں کے اندر ہے اور لا انتہا فضاؤں میں ہے۔ ان میں سے انسان نہایت ہی معمولی حصے کے بارے میں جانتا ہے۔ رہی یہ کہ اس نہایت ہی وسیع اور ناقابل تصور وسعتوں والی کائنات میں اور کوئی زندہ مخلوق ہے یا نہیں اس کے متعلق ہمیں کوئی معلومات نہیں ہیں ہم تو زمین کے اوپر موجود اور مشہود حیات میں سے بھی نہایت ہی تھوڑے حصے کو ۔۔۔ معلوم کرسکے ہیں ، یہ زندہ مخلوقات جو آسمانوں اور زمین میں ہے اسے اللہ جس دن چاہے گا ، جمع کرے گا۔ کوئی ایک فرد بھی جو یہاں وجود کائنات کے بعدپیدا ہوا ہے ، رہ نہ جائے گا یا غائب نہ ہو سکے گا۔
انسانوں کی حالت تو یہ ہے کہ اگر ان کے پنجروں سے پرندوں کی ایک ڈار اڑ جائے یا مکھیوں کے ایک چھتے سے ایک ڈار اڑ جائے تو وہ اسے جمع نہیں کرسکے۔ رہے پرندوں کے ڈار ، وہ کتنے ہیں ، یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے ۔ پھر مکھیوں ، چیونٹیوں اور اسی طرح کے دوسرے حیوانات کے چھتے تو ان کے بارے میں بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ اللہ ہی ان کو گن سکتا ہے۔ حشرات ارض ، کیڑے مکوڑے اور جراثیم تو ان کی تعداد اور ان کی جگہ کو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ مچھلیوں اور دوسرے حیوانات بحر تو ان کی تعداد اور اقسام کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ پالتو اور جنگلی جانوروں کی اقسام و تعداد کہ کہاں کہاں بکھرے ہیں اس کا علم بھی صرف اللہ کو ہے اور پھر انسانوں کی آبادیوں اور گروہ اور اقوام و انواع سے اللہ ہی باخبر ہے کہ وہ کہاں کہاں رہتے رہے ہیں ، رہتے ہیں اور رہیں گے۔ ان اقسام کے علاوہ بیشمار خلائق ہیں جو تعداد میں ان سے زیادہ اور جو زمین و آسمان میں مخفی ہیں ، ان کو بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی مخلوق ہے۔ اللہ جب جمع کرے گا تو وہ ایک ہی لفظ کے ساتھ چشم زدن میں جمع کر دے گا۔ ایک ہی آیت میں ان سب زندہ چیزوں کے بکھیرنے اور پھر جمع کرنے کے دونوں مناظر دکھا دئیے گئے ، قبل اس کے کہ فقرہ پوری طرح زبان سے ادا ہوجائے۔ منظر پہلے ہی ذہن کے پردے پر آکر چلا جاتا ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز ہے۔
ان مناظر کے درمیان ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کی وجہ سے اس جہاں میں تم پر وبال بھی آتے رہے ہیں۔ یہ وبال پورے نہیں بلکہ ان کا ایک حصہ تم پر آتا ہے ، اکثر تو اللہ معاف کردیتا ہے کیونکہ اللہ انسانوں کو ان کے اعمال کی پوری پوری سزا انہیں دیتا ۔ اکثر اعمال بد سے اللہ درگزر کردیتا ہے۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم تو بہت ہی عاجز و لاچار ہو۔ تم اللہ کے کسی منصوبے کو تو نہیں روک سکتے۔ تم تو اس کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہو۔
وما اصابکم من مصیبۃ ۔۔۔۔۔۔۔ عن کثیر (42 : 30) وما انتم بمعجزین ۔۔۔۔۔ ولا نصیر (42 : 31) ” تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہے ، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے۔ اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی درگزر کرجاتا ہے۔ تم زمین میں اپنے خدا کو عاجز کردینے والے نہیں ہو ، اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی وناصر نہیں رکھتے “۔ پہلی آیت میں اللہ کے عدل کی تجلی ہے ، اور انسانوں پر اللہ کی رحمت کی تجلیات ہیں۔ اس پر جو مصائب آتے ہیں اس کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے آتے ہیں۔ لیکن اللہ تو تمام بدکاریوں پر خود انہیں پکڑ پکڑ کر معاف کردیتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ انسان بہت ضعیف ہے۔ اس کی فطرت کے رحجانات اور اس کا ماحول اسے بدکاری پر مجبور کرتا ہے۔ اس لیے بہت سے گناہوں کو اللہ معاف کردیتا ہے۔ یہ اس کی رحمتیں اور مہربانیاں ہوتی ہیں۔
دوسری آیت میں انسان کی کمزوری کا اظہار ہے کہ وہ زمین پر اللہ کے کسی منصوبے کو نہیں روک سکتا۔ (اسی طرح وہ دعوت اسلامی کو نہیں روک سکتا) اس کا کوئی ولی و مددگار اللہ کے سوا نہیں ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے حقیقی ولی کی طرف لوٹ آئے۔