درس نمبر 230 ایک نظر میں
سورت کا یہ دوسرا حصہ انفس ، و آفاق میں موجود دلائل ایمان کے بیان پر مشتمل ہے اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت کے آثار کس طرح قدم قدم پر موجود ہیں۔ اور لوگوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ ان آثار کا تعلق ان کی زندگی اور ان کی معیشت کے ساتھ ہے۔ اور پھر اس میں اہل ایمان کی صفات بیان کی گئیں کہ وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں کیا کیا امتیازی خصوصیات رکھتے ہیں جبکہ پہلے حصے میں موضوع سخن زیادہ تر وحی و رسالت تھا۔ اس سبق کے آخر میں وحی الٰہی کی شکلیں بیان کی گئی ہیں۔ اس سورت کے دونوں حصوں میں ربط ظاہر ہے اللہ کے دلائل ایمان کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ وحی و رسالت کے ساتھ منسلک ہوجائیں
درس نمبر 230 تشریح آیات
25 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 53
آیت نمبر 25 تا 27
یہ بیان اس منظر کے بعد آتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قیامت کے دن ظالم ڈرے ہوئے ہوں گے ، یہ خوف انہیں اپنے کرتوتوں کی بلائے ناگہانی سے ہوگا جو یقیناً آنے ہی والی تھی اور پھر اس منظر کے بعد کہ اہل ایمان جنات کے گلستانوں میں ہوں گے اور یہ کہ نبی ﷺ کے پیغام میں کوئی شک و شبہ نہیں ہو سکتا ، آپ جو پہنچا رہے ہیں ، اللہ کی طرف سے پہنچاتے ہیں اور یہ کہ اللہ تو دلوں کے راز تک جانتا ہے “۔
ان حالات میں کہا جاتا ہے کہ مایوس نہ ہوجاؤ، تم جس گمراہی میں پڑے ہو ، کسی بھی وقت تم اس سے باہر نکل کر ۔۔۔ سکتے ہو۔ قبل اس کے کہ آخری فیصلہ ہوجائے ۔ تو بہ کا دروازہ کھلا ہے ، اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے اور سیئات کو وہ معاف کرتا ہے۔ لہٰذا ناامیدی اور معصیت ہی میں آگے بڑھنے پر تم مجبور نہیں ہو۔ سابقہ گناہوں کے بارے میں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ جانتا ہے وہ سچی توبہ کو بھی جانتا ہے۔ سابقہ گناہوں کو بھی جانتا ہے اور معاف کرتا ہے۔ اس خوبصورت طرز بیان کے درمیان بھی مومنوں اور کافروں کا انجام ذکر کیا جاتا ہے ، جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور عمل صالح کرتے ہیں وہ اپنے رب کی دعوت قبول کرتے ہیں اور رب پھر ان پر مزید فضل فرماتے ہیں۔
والکفرون لھم عذاب شدید (42 : 26) ” اور انکار کرنے والوں کے لئے شدید سزا ہے “۔ جبکہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور ہر شخص اس عذاب شدید سے اپنے آپ کو بچاسکتا ہے۔ اور جو توبہ کرے گا اسے مزید فضل الٰہی بطور انعام ملے گا۔
آخرت میں اللہ کا فضل بلا حساب ہوگا اس پر کوئی حد اور قید نہیں ہے۔ رہا اس جہاں میں بندوں کے لئے رزق کا انتظام تو اس پر اللہ نے حدود وقیود رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کو جانتا ہے کہ ان کا ظرف کتنا ہے۔ لا محدود فضل الٰہی کے وہ متحمل نہیں ہیں۔
ولو بسط اللہ ۔۔۔۔۔ بعبادہ خبیر بصیر (42 : 27) ” اگر اللہ اپنے بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کردیتے ، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے ، نازل کرتا ہے۔ یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور ان پر نگاہ رکھتا ہے “۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا رزق چاہے وہ جتنا بھی ہو ، آخرت کے فیض اور آخرت کے ارزاق کے مقابلے میں کفاف ہی ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ اللہ ان پیراں پارسا کو خوب جانتا ہے کہ ان کو ایک حد تک ہی مالدار ہونا چاہئے۔ اور اگر ان کے لئے رزق اسی طرح وسیع کردیا جاتا جس طرح آخرت میں ہے تو یہ زمین پہ طوفان بدتمیزی مچا دیتے ۔ ان کا ظرف کم ہے۔ یہ اپنے حدود میں نہیں رہ سکتے۔ یہ ایک حد تک ہی مالداری برداشت کرسکتے ہیں۔ اور اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ لہٰذا اس جہاں میں ان کے لئے رزق کو محدود کردیا ہے۔ ایک مقدار کے مطابق ، جو ان کے لئے برداشت کرنے کے قابل ہو اور جو اس زمین کی آزمائشوں میں کامیاب ہوں گے اور امتحان پاس کرلیں اور سلامتی کے ساتھ دار بقاء تک پہنچ جائیں گے ان کو اللہ کا فیض اور فضل کبیر وہاں بلا حدودو قیود ملے گا