You are reading a tafsir for the group of verses 42:17 to 42:20
الله الذي انزل الكتاب بالحق والميزان وما يدريك لعل الساعة قريب ١٧ يستعجل بها الذين لا يومنون بها والذين امنوا مشفقون منها ويعلمون انها الحق الا ان الذين يمارون في الساعة لفي ضلال بعيد ١٨ الله لطيف بعباده يرزق من يشاء وهو القوي العزيز ١٩ من كان يريد حرث الاخرة نزد له في حرثه ومن كان يريد حرث الدنيا نوته منها وما له في الاخرة من نصيب ٢٠
ٱللَّهُ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ وَٱلْمِيزَانَ ۗ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ ٱلسَّاعَةَ قَرِيبٌۭ ١٧ يَسْتَعْجِلُ بِهَا ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا ۖ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا ٱلْحَقُّ ۗ أَلَآ إِنَّ ٱلَّذِينَ يُمَارُونَ فِى ٱلسَّاعَةِ لَفِى ضَلَـٰلٍۭ بَعِيدٍ ١٨ ٱللَّهُ لَطِيفٌۢ بِعِبَادِهِۦ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ ۖ وَهُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ ١٩ مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلْـَٔاخِرَةِ نَزِدْ لَهُۥ فِى حَرْثِهِۦ ۖ وَمَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَمَا لَهُۥ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ مِن نَّصِيبٍ ٢٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت نمبر 17 تا 19

اللہ نے ایک تو کتاب برحق نازل کی اور اس میں عدل نازل کیا۔ اس میزان عدل کے مطابق لوگوں کے اختلافات کے بارے میں حکم دینے اور فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ لوگوں کی خواہشات و دعا وی کے بارے میں ہو یا ان کی آراء کے بارے میں ہو یا عقائد و نظریات کے بارے میں۔ اور اللہ نے ایک نظام شریعت بھی نازل کیا جس کی اساس عادلانہ فیصلوں پر رکھی۔ قرآن نے عدل کے لئے میزان کا لفظ استعمال کیا۔ یعنی ایسا عدل کہ جس کے مطابق حقوق کا وزن کیا جاسکے۔ اعمال اور تصرفات کو تولا جاسکے۔

اب روئے سخن کتاب و میزان سے قیامت کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور مناسبت مضمون واضح ہے کہ کتاب اور شریعت نے بھی لوگوں کے درمیان اس دنیا میں میزان لگا کر عدل کرنا ہے ، اور آخرت میں بھی میزان لگا کر عدل و انصاف ہوگا ۔ قیام قیامت چونکہ ایک غیب ہے اور اس کے قیام کی گھڑی کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ وہ بہت ہی قریب ہو۔

وما یدریک لعل الساعۃ قریب (42 : 17) ” اور تمہیں کیا معلوم کہ فیصلے کی گھڑی قریب آلگی ہو “۔ اور لوگ اس سے غافل ہوں اور وہ ان کے قریب ہو۔ اور یہ آخری عدل و انصاف کا ترازو بھی نصیب ہوجائے جہاں کسی عمل کو مہمل نہ چھوڑا جائے گا اور نہ کوئی گم ہوگا۔ یہاں قیامت کے بارے میں مومنین اور منکرین دونوں کی سوچ کو بتایا جاتا ہے۔

یستعجل بھا الذین ۔۔۔۔ انھا الحق (42 : 18) ” جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے ، وہ اس کے لئے جلدی مچاتے ہیں ، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ یقیناً آنے والی ہے “۔ ظاہر کہ جو اس پر ایمان نہیں لاتے ان کے دلوں پر اس کا خوف ہی نہیں ہے اور ان کو اندازہ نہیں ہے کہ وہاں انہیں کیا پیش آنے والا ہے۔ اس لیے وہ بطور مزاح اس کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں ، یا اس کے لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ اندھے ہیں اور ان کو نظر ہی نہیں آتا۔ رہے وہ لوگ جو ایماندار ہیں تو انہیں قیامت پر بھی یقین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں اور نہایت خوف اور ڈر سے اس کا انتظار کر رہے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ جب وہ آئے گی تو کیا ہوگا ، وہ حق ہے۔ اس کا آنا حق ہے اور مومن اسے جانتا ہے کیونکہ مومن اور حق کے درمیان رابطہ ہے۔

الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید (42 : 18) ” خوب سن لو ، جو لوگ اس گھڑی میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں ، وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں “۔ انہوں نے گمراہی میں غلو کرلیا ہے۔ اور اس راہ پر بہت دور نکل گئے ہیں ، اب ان کے لئے اس قدر دور نکلنے کے بعد واپسی ممکن نہیں ہے۔ اب آخرت ، اس کے انکار اور اس کے بارے میں لا پرواہی اور اس سے ڈرنے کے مضمون سے روئے سخن اس دنیا میں لوگوں کے رزق کی بحث کی طرف مڑتا ہے جو اللہ کسی کو کم ، کسی کو زیادہ دیتا ہے۔

اللہ لطیف بعبادہ برزق من یشاء وھو القوی العزیز (42 : 19) ” اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ہے ، دیتا ہے اور وہ بڑی قوت ولا اور زبردست ہے “۔ بظاہر آخرت اور بندوں کے رزق کے مضامین کے درمیان کوئی خاص مناسبت اور ربط نظر نہیں آتا۔ لیکن بعد کی آیت پڑھنے کے بعد ربط ظاہر ہوجاتا ہے۔

من کان یرید حرث ۔۔۔۔۔ الاخرۃ من نصیب (42 : 20) ” جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ، اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا “۔ بس اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے ، جسے جو کچھ چاہتا ، دیتا ۔ ہے صالح کو بھی دیتا ہے ، برے کو بھی دیتا ہے ، مومن کو بھی دیتا ہے ، کافر کو بھی دیتا ہے ، کیونکہ انسان خود اپنے رزق کا بندو بست نہیں سکتے ، جب اللہ نے ان کو زندگی دی ہے تو زندگی کے بنیادی اسباب بھی دئیے ہیں ، اگر اللہ کافر ، فاسق اور بدکار کو رزق نہ دیتا تو وہ اپنے رزق کا بندوبست تو خود نہ کرسکتے اور بھوک اور پیاس سے مرجاتے ۔ جب وہ زندگی ہی سے ہاتھ دھو بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ رکھ کر مہلت دینے کا جو قانون مقرر فرمایا تھا ، وہ پورا نہ ہوتا۔ اور یہ نہ ہو سکتا تھا کہ لوگ دنیا میں آزادانہ عمل کریں اور ان کے اعمال کا حساب آخرت میں ہو۔ اس لیے اللہ نے رزق کا معاملہ نیکی اور برائی کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ ایمان وکفر کے ساتھ رزق کا تعلق نہیں ہے اور رزق کے معاملے کو انسانوں کی اجتماعی زندگی کے حالات پر رکھ دیا ، پھر ان اجتماعی حالات میں بندوں کے طرز عمل پر رکھ دیا اور مال کو بھی لوگوں کے لئے فتنہ اور آزمائش بنا دیا جس پر جزاء و سزا کا دارو مدار ٹھہرا۔

پھر آخرت اور دنیا کے لئے علیحدہ علیحدہ کھیت قرار دیا۔ ہر آدمی کو اختیار دے دیا کہ وہ دنیا کے کھیت میں محنت کرتا ہے یا آخرت کے کھیت میں۔ جو شخص آخرت کے لئے کھیتی باڑی کرتا ہے اسے آخرت کی فصل ملے گی اور اللہ بطور انعام اس کے کھیت میں اضافہ کر دے گا اور اس کی نیت کی وجہ سے اس کام میں اس کے لئے اسباب فراہم کر دے گا۔ اس میں برکت دے گا۔ اس آخرت کی کھیتی میں اس کے لئے ضروریات دنیا کا بھی انتظام ہوگا۔ دنیا کے لئے بھی رزق اسے ملے گا ۔ اس میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ بلکہ یہی دنیا کا رزق ہی فلاح آخرت قرار پائے گا۔ جب وہ اس دنیا کے رزق کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے اور اس میں ، اللہ کے حکم کے مطابق تصرف۔ انفاق فی سبیل اللہ کرے گا۔ اور جو شخص صرف دنیا کا کھیت چاہے تو اللہ اسے دنیا کا سازوسامان دے گا اور جو اس کے لئے لکھ دیا گیا ہو وہ اسے ملے گا۔ لیکن آخرت میں اس کا حصہ نہ ہوگا اس لیے کہ اس نے آخرت کی کھیت میں کام ہی نہیں کیا کہ وہاں اس کے لئے کوئی چیز منتظر ہو۔

اب ذرا طلبگار ان کشت زار دنیا اور طلب گار ان کشت زار آخرت پر ایک نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ صرف دنیا کے کھیت میں کام کرنے والے بہت ہی احمق ہیں۔ جہاں تک دنیا کے رزق کا تعلق ہے تو اللہ دونوں فریقوں کو دیتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لئے رزق تو ہر کسی کو ملتا ہے جس قدر اس کے مقدر میں لکھا ہوا ہے۔ ہاں آخرت کے کھیت میں کام کرنے والے کے لئے آخرت کا حصہ صرف اس کا ہوتا ہے۔

صرف دنیا کے کھیت کا انتخاب کرنے والوں میں فقراء بھی ہوتے ہیں اور امراء بھی۔ یعنی جس کے پاس جس قدر دولت ہے ، اس معاشرے کے عام حالات کے مطابق جس میں وہ رہتا ہے ، اور اس کی ذاتی صلاحیت اور محنت کے مطابق۔ یہی حال ہے آخرت کے کھیت میں کام کرنے والوں کا کہ ان میں امراء بھی ہوں گے اور فقراء بھی۔ کیونکہ رزق کے معاملے میں مومن اور کافر میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اختلاف تو یہاں ہوگا کہ کون کس کھیت کا انتخاب کرتا ہے ، فقط دنیا کا ، یا آخرت کا۔ احمق وہ ہے جو آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے جس میں دنیا کا رزق بھی ہے اور آخرت کا بھی۔ اور جب وہ آخرت کے کھیت کو ترک کرتا ہے تو دنیا میں بھی اسے اسی قدر ملتا ہے جو مقدر ہے۔

غرض معاملہ اس سچائی کے مطابق اپنے انجام کو پہنچے گا جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کی ہے۔ حق اور انصاف یہ ہے کہ تمام زندہ چیزوں کو رزق دیا جائے اور آخرت کا حصہ صرف ان لوگوں کے لئے ہو جنہوں نے آخرت کے لئے کام کیا اور جو آخرت کے لئے کام نہ کریں وہ آخرت میں محروم ہوں۔

٭٭٭٭

اب پھر ایک سفر پہلے موضوع پر یعنی توحید و رسالت پر