You are reading a tafsir for the group of verses 41:37 to 41:38
ومن اياته الليل والنهار والشمس والقمر لا تسجدوا للشمس ولا للقمر واسجدوا لله الذي خلقهن ان كنتم اياه تعبدون ٣٧ فان استكبروا فالذين عند ربك يسبحون له بالليل والنهار وهم لا يسامون ۩ ٣٨
وَمِنْ ءَايَـٰتِهِ ٱلَّيْلُ وَٱلنَّهَارُ وَٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا۟ لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَٱسْجُدُوا۟ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ٣٧ فَإِنِ ٱسْتَكْبَرُوا۟ فَٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ يُسَبِّحُونَ لَهُۥ بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْـَٔمُونَ ۩ ٣٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

انسان کی سب سے بڑی گمراہی اس کی ظاہر پرستی ہے۔ قدیم زمانہ کے انسان کو سورج اور چاند اور ستارے سب سے زیادہ نمایاں نظر آئے ۔ اس لیے اس نے ان مظاہر کو خدا سمجھ لیا اور ان کو پوجنا شروع کر دیا۔ موجودہ زمانہ میں مادی تہذیب کی جگمگاہٹ لوگوں کو نمایاں دکھائی دے رہی ہے ۔اس لیے اب مادی تہذیب کو وہ مقام دے دیا گیا ہے جو قدیم زمانہ میں سورج اور چاند کو حاصل تھا۔ حالانکہ خواہ سورج اور چاند ہوں یا دوسرے مظاہر سب کے سب خدا کی مخلوق ہیں۔انسان کو چاہیے کہ وہ خالق کا پرستار رہے نہ کہ اس کی مخلوقات کا۔ تکبر کرنے والوں کا تکبر دعوت کے مقابلے میں نہیں ہوتا، بلکہ ہمیشہ داعی کے مقابلے میں ہوتا ہے ۔ وقت کے بڑوں کو بظاہر داعی اپنے سے چھوٹا نظر آتا ہے ۔اس لیے وہ اس کو چھوٹا سمجھ لیتے ہیں اور اسی کے ساتھ اس کی طرف سے پیش کئے جانے والے پیغام کو بھی ۔