۞ قل اني نهيت ان اعبد الذين تدعون من دون الله لما جاءني البينات من ربي وامرت ان اسلم لرب العالمين ٦٦ هو الذي خلقكم من تراب ثم من نطفة ثم من علقة ثم يخرجكم طفلا ثم لتبلغوا اشدكم ثم لتكونوا شيوخا ومنكم من يتوفى من قبل ولتبلغوا اجلا مسمى ولعلكم تعقلون ٦٧ هو الذي يحيي ويميت فاذا قضى امرا فانما يقول له كن فيكون ٦٨
۞ قُلْ إِنِّى نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَمَّا جَآءَنِىَ ٱلْبَيِّنَـٰتُ مِن رَّبِّى وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٦٦ هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍۢ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍۢ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍۢ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًۭا ثُمَّ لِتَبْلُغُوٓا۟ أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا۟ شُيُوخًۭا ۚ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ مِن قَبْلُ ۖ وَلِتَبْلُغُوٓا۟ أَجَلًۭا مُّسَمًّۭى وَلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ٦٧ هُوَ ٱلَّذِى يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ فَإِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًۭا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ٦٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
ان آیات میں فطرت کے کچھ واقعات کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا ہے ’’یہ اس ليے ہے تاکہ تم غورکرو‘‘— گویا فطرت کے یہ مادی واقعات اپنے اندر کچھ معنوی سبق ليے ہوئے ہیں۔ اور انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ غور کرکے اس چھپے ہوئے سبق تک پہنچے۔
فطرت کے جن واقعات کا یہاں ذکر کیاگیا ہے وہ ہیں— بے جان مادہ کا تبدیل ہوکر جان دار چیز بن جانا، انسان کا تدریجی انداز میں نشوو نما پانا۔جوانی تک پہنچ کر پھر آدمی پر بڑھاپا طاری ہونا، زندہ انسان کا دوبارہ مرجانا، کبھی کم عمری میں اور کبھی زیادہ عمر میں، یہ واقعات خالق کی مختلف صفات کا تعارف ہیں۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ اس کائنات کا وجود میں لانے والا ایک ایسا خداہے جو قادر اور حکیم ہے، وہ سب پر غالب اور بالادست ہے۔
اگر آدمی ان واقعات سے حقیقی سبق لے تو ا س کا ذہن پکار اٹھے گا کہ ایک خدا ہی اس کا سزاوار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کو اپنا آخری مطلوب سمجھا جائے۔ عالم کا یہ نقشہ بزبان حال ان تمام معبودوں کی تردید کررہا ہے جو ایک خدا کو چھوڑ کر بنائے گئے ہوں۔