آیت 20 فَاِنْ حَآجُّوْکَ دلیل بازی اور مناظرے کی روش اختیار کریں۔ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْہِیَ لِلّٰہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ط۔ آپ ﷺ ان سے دو ٹوک انداز میں یہ آخری بات کہہ دیں کہ ہم نے تو اللہ کے آگے سراطاعت خم کردیا ہے۔ ہم نے ایک راستہ اختیار کرلیا ہے۔ تم جدھر جانا چاہتے ہوجاؤ ‘ جس پگڈنڈی پر مڑنا چاہتے ہو مڑ جاؤ ‘ جس کھائی میں گرنا چاہتے ہو گر جاؤ۔ لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ الکافرون۔وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالْاُمِّیّٖنَ ءَ اَسْلَمْتُمْ ط کیا تم بھی سرتسلیم خم کرتے ہو یا نہیں ؟ تابع ہوتے ہو یا نہیں ؟ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہو یا نہیں ؟فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اہْتَدَوْا ج وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ ط آپ ﷺ نے ہمارا پیغام ان تک پہنچا دیا ‘ ہماری دعوت ان تک پہنچا دی ‘ ہماری آیات انہیں پڑھ کر سنا دیں ‘ اب قبول کرنا یا نہ کرنا ان کا اپنا اختیار choice ہے۔ آپ ﷺ پر ذمہ داری نہیں ہے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لائے۔ سورة البقرۃ میں ہم یہ الفاظ پڑھ آئے ہیں : وَلَا تُسْءَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ ۔وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بالْعِبَادِ وہ ان سے حساب کتاب کرلے گا اور ان سے نمٹ لے گا۔ آپ ﷺ کے ذمہ جو فرض ہے آپ اس کو ادا کرتے رہیے۔