You are reading a tafsir for the group of verses 3:165 to 3:168
اولما اصابتكم مصيبة قد اصبتم مثليها قلتم انى هاذا قل هو من عند انفسكم ان الله على كل شيء قدير ١٦٥ وما اصابكم يوم التقى الجمعان فباذن الله وليعلم المومنين ١٦٦ وليعلم الذين نافقوا وقيل لهم تعالوا قاتلوا في سبيل الله او ادفعوا قالوا لو نعلم قتالا لاتبعناكم هم للكفر يوميذ اقرب منهم للايمان يقولون بافواههم ما ليس في قلوبهم والله اعلم بما يكتمون ١٦٧ الذين قالوا لاخوانهم وقعدوا لو اطاعونا ما قتلوا قل فادرءوا عن انفسكم الموت ان كنتم صادقين ١٦٨
أَوَلَمَّآ أَصَـٰبَتْكُم مُّصِيبَةٌۭ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّىٰ هَـٰذَا ۖ قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنفُسِكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ١٦٥ وَمَآ أَصَـٰبَكُمْ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ ٱللَّهِ وَلِيَعْلَمَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٦٦ وَلِيَعْلَمَ ٱلَّذِينَ نَافَقُوا۟ ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ قَـٰتِلُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ أَوِ ٱدْفَعُوا۟ ۖ قَالُوا۟ لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًۭا لَّٱتَّبَعْنَـٰكُمْ ۗ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَـٰنِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَٰهِهِم مَّا لَيْسَ فِى قُلُوبِهِمْ ۗ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ ١٦٧ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ لِإِخْوَٰنِهِمْ وَقَعَدُوا۟ لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا۟ ۗ قُلْ فَٱدْرَءُوا۟ عَنْ أَنفُسِكُمُ ٱلْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ١٦٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حق وباطل کے مقابلہ میں آخری فتح حق کو ہوتی ہے۔ کیوںکہ اللہ ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شرپسندوں کو بھی عمل کی پوری آزادی ہے۔ اس لیے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اہل حق کی کسی کمزوری، مثلاً باہمی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر شرپسند ان کو وقتی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس طرح کے واقعات کا ایک مفید پہلو بھی ہے۔ اس کے ذریعہ خود مسلمانوں کی جماعت کی جانچ ہوجاتی ہے۔ ناموافق حالات کو دیکھ کر غیر مخلص لوگ چھٹ جاتے ہیں اور جو سچے مسلمان ہیں وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جمے رہتے ہیں۔ اس طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ کون قابل اعتماد ہے اورکون ناقابل اعتماد۔ مزید یہ کہ اتفاقی غلطی سے نقصان اٹھانے کے بعد جب اہل ایمان دوبارہ صبر اور انابت اور توکل علی اللہ کا ثبوت دیتے ہیں تو خدا کی رحمت ان کی طرف پہلے سے بھی زیادہ متوجہ ہوجاتی ہے۔

حق وباطل کے معرکہ میں جو لوگ اس طرح شرکت کریں کہ اسی کی راہ میں اپنے کومٹا دیں، ان کے متعلق اہل دنیا اکثر افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ انھوں نے خواہ مخواہ اپنے کو برباد کرلیا۔ مگر یہ صرف نادانی کی بات ہے۔ اللہ کی راہ میں کھونا ہی تو سب سے بڑا پانا ہے ۔ کیوں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیں وہی وہ لوگ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کے انعامات کے مستحق قرار ديے جائیںگے۔

اللہ کی راہ میں جان دینے والوں کا ذکر نادان لوگ اس طرح کرتے ہیں جیسے دوسری راہوں میں اپنی زندگیاں لگانے والوں پر موت نہیں آتی، جیسے کہ صرف مجاہدین فی سبیل اللہ مرتے ہیں اور دوسرے لوگ مرتے ہی نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات سراسر بے معنی ہے۔ موت خدا کا ایک عام قانون ہے۔ وہ بہر حال ہرایک کے لیے اپنے وقت پر آنے والی ہے۔ آدمی خواہ ایک راستہ میں چل رہا ہو یا دوسرے راستہ میں، وہ کسی حالت میں موت کے انجام سے بچ نہیں سکتا۔

جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ کبھی اپنی بات میں سنجیدہ نہیں ہوتے۔ ان کا دل تو اعتراف کررہا ہوتا ہے کہ حق کے لیے قربانی نہ دے کر انھوںنے سخت کوتاہی کی ہے۔ مگر زبان سے قربانی کرنے والوں کو مطعون کرکے اپنا ظاہری بھرم قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی زبان سے ایسے الفاظ بولتے ہیں جن کے بارے میں خود ان کا دل گواہی دے رہا ہوتا ہے وہ جھوٹے الفاظ ہیں، ان کی کوئی واقعی حقیقت نہیں۔