You are reading a tafsir for the group of verses 3:14 to 3:16
زين للناس حب الشهوات من النساء والبنين والقناطير المقنطرة من الذهب والفضة والخيل المسومة والانعام والحرث ذالك متاع الحياة الدنيا والله عنده حسن الماب ١٤ ۞ قل اونبيكم بخير من ذالكم للذين اتقوا عند ربهم جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها وازواج مطهرة ورضوان من الله والله بصير بالعباد ١٥ الذين يقولون ربنا اننا امنا فاغفر لنا ذنوبنا وقنا عذاب النار ١٦
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ ٱلشَّهَوَٰتِ مِنَ ٱلنِّسَآءِ وَٱلْبَنِينَ وَٱلْقَنَـٰطِيرِ ٱلْمُقَنطَرَةِ مِنَ ٱلذَّهَبِ وَٱلْفِضَّةِ وَٱلْخَيْلِ ٱلْمُسَوَّمَةِ وَٱلْأَنْعَـٰمِ وَٱلْحَرْثِ ۗ ذَٰلِكَ مَتَـٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسْنُ ٱلْمَـَٔابِ ١٤ ۞ قُلْ أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيْرٍۢ مِّن ذَٰلِكُمْ ۚ لِلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّـٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا وَأَزْوَٰجٌۭ مُّطَهَّرَةٌۭ وَرِضْوَٰنٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ ١٥ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ إِنَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ١٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

خدا کی رحمت ہدایت اس طرح تقسیم نہیں ہوتی کہ جس شخص کو دنیوی عظمت ملی ہوئی ہو اسی کو خدا کی ہدایت بھی دے دی جائے۔ اگر دنیوی عظمت لوگوں کو خدا کے یہاں عظیم بنانے والی ہوتی تو ایسے لوگوں کےلیے ممکن ہوتاکہ وہ جس شخص کو چاہیں خدا کی رحمت پہنچائیں اور جس سے چاہیں اسے روک دیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا اپنی رحمت کی تقسیم خود اپنے معیار پر کرتاہے، نہ کہ ظاہر پرست انسانوں کے بنائے ہوئے معیار پر۔

پیغمبر کا انکار کرنے والے کہتے کہ جس خدائی عذاب سے تم ہم کو ڈرارہے ہو اس خدائی عذاب کو لے آؤ۔ یہ جرأت ان کے اندر اس ليے پیدا ہوتی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان پر خدا کا عذاب آنے والا ہی نہیں۔ ان کو بتایا گیا کہ جن بتوں کے بل پر تم اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہے ہو، اسی قسم کے بتوں کے بل پر پچھلی قوموں نے بھی اپنے کو محفوظ سمجھا اور اپنے رسولوں کے ساتھ سرکشی کی۔ مگر وہ سب کی سب ہلاک کردی گئیں۔ پھر تم آخر کس طرح بچ جاؤ گے۔