يا ايها الذين امنوا ان تطيعوا الذين كفروا يردوكم على اعقابكم فتنقلبوا خاسرين ١٤٩ بل الله مولاكم وهو خير الناصرين ١٥٠ سنلقي في قلوب الذين كفروا الرعب بما اشركوا بالله ما لم ينزل به سلطانا وماواهم النار وبيس مثوى الظالمين ١٥١ ولقد صدقكم الله وعده اذ تحسونهم باذنه حتى اذا فشلتم وتنازعتم في الامر وعصيتم من بعد ما اراكم ما تحبون منكم من يريد الدنيا ومنكم من يريد الاخرة ثم صرفكم عنهم ليبتليكم ولقد عفا عنكم والله ذو فضل على المومنين ١٥٢ ۞ اذ تصعدون ولا تلوون على احد والرسول يدعوكم في اخراكم فاثابكم غما بغم لكيلا تحزنوا على ما فاتكم ولا ما اصابكم والله خبير بما تعملون ١٥٣
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تُطِيعُوا۟ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَرُدُّوكُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَـٰبِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَـٰسِرِينَ ١٤٩ بَلِ ٱللَّهُ مَوْلَىٰكُمْ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلنَّـٰصِرِينَ ١٥٠ سَنُلْقِى فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلرُّعْبَ بِمَآ أَشْرَكُوا۟ بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَـٰنًۭا ۖ وَمَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ ۚ وَبِئْسَ مَثْوَى ٱلظَّـٰلِمِينَ ١٥١ وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ ٱللَّهُ وَعْدَهُۥٓ إِذْ تَحُسُّونَهُم بِإِذْنِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَـٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّنۢ بَعْدِ مَآ أَرَىٰكُم مَّا تُحِبُّونَ ۚ مِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلدُّنْيَا وَمِنكُم مَّن يُرِيدُ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۖ وَلَقَدْ عَفَا عَنكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٥٢ ۞ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلَا تَلْوُۥنَ عَلَىٰٓ أَحَدٍۢ وَٱلرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِىٓ أُخْرَىٰكُمْ فَأَثَـٰبَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّۢ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوا۟ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَآ أَصَـٰبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ ١٥٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
جنگ احد میں وقتی شکست سے مخالفوں کو موقع ملا۔ انھوںنے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کا معاملہ کوئی خدائی معاملہ نہیں ہے۔ کچھ لوگ محض طفلانہ جوش کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے جوش کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اگر یہ خدائی معاملہ ہوتا تو ان کو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں شکست کیوں ہوتی۔ مگر اس طرح کے واقعات خواہ بظاہر مسلمانوں کی غلطی سے پیش آئیں، وہ ہر حال میں خدا کا امتحان ہوتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ’’احد‘‘ کا حادثہ پیش آنا ضروری ہے تاکہ یہ کھل جائے کہ کون اللہ پر اعتماد کرنے والا تھا اور کون پھسل جانے والا۔ اس قسم کے واقعات مومن کے لیے دو طرفہ آزمائش ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگوں کی مخالفانہ باتوں سے متاثر نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ وقتی تکلیف سے گھبرا نہ جائے، اور ہر حال میں ثابت قدم رہے۔
مشکل مواقع پر اہل ایمان اگر جمے رہ جائیں تو بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نصرتِ رعب نازل ہوتی ہے، جو شخص یا گروہ اللہ کے سچے دین کے سوا کسی اور چیز کے اوپر کھڑا ہوا ہے وہ حقیقۃً بے بنیاد زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ اللہ کی اتاری ہوئی سچائی کے سوا اس دنیا میں کوئی اور حقیقی بنیاد نہیں۔ اس لیے جب کوئی دین خدا وندی کے اوپر کھڑا ہو اور جماؤ کا ثبوت دے تو جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اہل باطل کی صفوںمیں انتشار شروع ہوجاتا ہے۔ دلائل کے اعتبار سے ان کا بے بنیاد ہونا ان کے افراد میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ وہ اپنے کو کم اور اہل ایمان کو زیادہ دیکھنے لگتے ہیں۔ ان کی ذہنی شکست بالآخر عملی شکست تک پہنچتی ہے۔ وہ اہلِ حق کے مقابلہ میں ناکام ونامراد ہو کر رہ جاتے ہیں۔
مسلمانوں کے لیے شکست اور کمزوری کا سبب ہمیشہ ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے تنازع فی الامر۔ یعنی رایوں کے اختلاف کی بنا پر الگ ہوجانا۔ انسانوں کے درمیان اتفاق کبھی اس معنی میں نہیں ہوسکتا کہ سب کی رائیں بالکل ایک ہوجائیں۔ اس لیے کسی گروہ میں اتحاد کی صورت صرف یہ ہے کہ رایوں میں اختلاف کے باوجود عمل میں اختلاف نہ کیا جائے۔ جب تک کسی گروہ میں یہ بلند نظری پائی جائے گی وہ متحد اور نتیجتاً طاقت ور رہے گا۔ اور جب رایوں کا اختلاف کرکے لوگ الگ الگ ہونے لگیں تو اس کے بعد لازماً کمزوری اور اس کے نتیجہ میں شکست واقع ہوگی۔