سنلقي في قلوب الذين كفروا الرعب بما اشركوا بالله ما لم ينزل به سلطانا وماواهم النار وبيس مثوى الظالمين ١٥١
سَنُلْقِى فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلرُّعْبَ بِمَآ أَشْرَكُوا۟ بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَـٰنًۭا ۖ وَمَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ ۚ وَبِئْسَ مَثْوَى ٱلظَّـٰلِمِينَ ١٥١
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 151 سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَآ اَشْرَکُوْا باللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا ج وَمَاْوٰٹہُمُ النَّارُط وَبِءْسَ مَثْوَی الظّٰلِمِیْنَ اس آیت میں دراصل توجیہہ بیان ہو رہی ہے کہ غزوۂ احد میں مشرکین واپس کیوں چلے گئے ‘ جب کہ ان کو اس درجے کھلی فتح حاصل ہوچکی تھی اور مسلمانوں کو ہزیمت اٹھانا پڑی تھی۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رض نے پہاڑ کے اوپر چڑھ کر پناہ لے لی تھی۔ خالد بن ولید کہہ رہے تھے کہ ہمیں ان کا تعاقب کرنا چاہیے اور اس معاملے کو ختم کردینا چاہیے۔ لیکن ابوسفیان کے دل میں اللہ نے اس وقت ایسا رعب ڈال دیا کہ وہ لشکر کو لے کر وہاں سے چلے گئے۔ ورنہ واقعتا اس وقت صورت حال بہت مخدوش ہوچکی تھی۔