You are reading a tafsir for the group of verses 3:144 to 3:148
وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل افان مات او قتل انقلبتم على اعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شييا وسيجزي الله الشاكرين ١٤٤ وما كان لنفس ان تموت الا باذن الله كتابا موجلا ومن يرد ثواب الدنيا نوته منها ومن يرد ثواب الاخرة نوته منها وسنجزي الشاكرين ١٤٥ وكاين من نبي قاتل معه ربيون كثير فما وهنوا لما اصابهم في سبيل الله وما ضعفوا وما استكانوا والله يحب الصابرين ١٤٦ وما كان قولهم الا ان قالوا ربنا اغفر لنا ذنوبنا واسرافنا في امرنا وثبت اقدامنا وانصرنا على القوم الكافرين ١٤٧ فاتاهم الله ثواب الدنيا وحسن ثواب الاخرة والله يحب المحسنين ١٤٨
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌۭ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ ٱلرُّسُلُ ۚ أَفَإِي۟ن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ ٱنقَلَبْتُمْ عَلَىٰٓ أَعْقَـٰبِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ ٱللَّهَ شَيْـًۭٔا ۗ وَسَيَجْزِى ٱللَّهُ ٱلشَّـٰكِرِينَ ١٤٤ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ كِتَـٰبًۭا مُّؤَجَّلًۭا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا نُؤْتِهِۦ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ ٱلْـَٔاخِرَةِ نُؤْتِهِۦ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِى ٱلشَّـٰكِرِينَ ١٤٥ وَكَأَيِّن مِّن نَّبِىٍّۢ قَـٰتَلَ مَعَهُۥ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌۭ فَمَا وَهَنُوا۟ لِمَآ أَصَابَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا۟ وَمَا ٱسْتَكَانُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلصَّـٰبِرِينَ ١٤٦ وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ رَبَّنَا ٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِىٓ أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَـٰفِرِينَ ١٤٧ فَـَٔاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ ثَوَابَ ٱلدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ ٱلْـَٔاخِرَةِ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ ١٤٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

احد کی جنگ میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے۔ اس وقت کچھ مسلمانوں میں پست ہمتی پیداہوگئی۔ مگر اللہ کے حقیقی بندے وہ ہیں جن کی دینداری کسی شخصیت کے اوپر قائم نہ ہو۔ اللہ کو وہ دین داری مطلوب ہے جب کہ بندہ اپنی ساری روح اور ساری جان کے ساتھ صرف ایک اللہ کے ساتھ جڑ جائے۔ مومن وہ ہے جو اسلام کو اس کی اصولی صداقت کی بنا پر پکڑے، نہ کہ کسی شخصیت کے سہارے کی بنا پر۔ جو شخص اس طرح اسلام کو پاتا ہے اس کے لیے اسلام ایک ایسی نعمت بن جاتا ہے جس کے لیے اس کی روح کے اندر شکر کا دریا موجزن ہوجائے۔ وہ دنیا کے بجائے آخرت کو سب کچھ سمجھنے لگتاہے۔ زندگی اس کے لیے ایک ایسی ناپائدار چیز بن جاتی ہے جو کسی بھی لمحہ موت سے دوچار ہونے والی ہو۔ وہ کائنات کو ایک ایسے خدائی کارخانہ کی حیثیت سے دیکھ لیتا ہے جہاں ہر واقعہ خدا کے اِذن کے تحت ہورہا ہے۔ جہاں دینے والا بھی وہی ہے اور چھيننے والا بھی وہی۔ ایسے ہی لوگ اللہ کی راہ کے سچے مسافر ہیں۔ اللہ اگر چاہتا ہے تو دنیا کا عزت واقتدار بھی ان کو دے دیتا ہے اور آخرت کی عظیم اور ابدی انعامات تو صرف انھیں کے لیے ہیں۔ تاہم یہ درجه کسی کو صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ وہ ہر قسم کے امتحان میں پورا اترے۔ اس کے ظاہری سہارے کھوئے جائیں تب بھی وہ اللہ پر اپنی نظر یںجمائے رہے۔ جان کا خطرہ بھی اس کو پست ہمت نہ کرسکے۔ دنیا برباد ہو رہی ہو تب بھی وہ پیچھے نہ ہٹے۔ اس کے سامنے کوئی نقصان آئے تو اس کو وہ اپنی کوتاہی کا نتیجہ سمجھ کر اللہ سے معافی مانگے۔ کوئی فائدہ ملے تو اس کو خدا کا انعام سمجھ کر شکر ادا کرے۔ مومن کا یہ امتحان جو ہر روز لیا جارہا ہے کبھی اُن ہلادینے والے مقامات تک بھی پہنچ جاتا ہے جہاں زندگی کی بازی لگی ہوئی ہو۔ ایسے مواقع پر بھی جب آدمی بزدلی نہ دکھائے، نہ وہ بے یقینی میں مبتلا ہو اور نہ وہ کسی حال میں دین کے دشمنوں کے سامنے ہار ماننے کے لیے تیار ہو تو گویا وہ امتحان کی آخری جانچ میں بھی پورا اترا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہر قسم کی سرفرازیاں ہیں۔ تاریخ میںوہی لوگ سب سے زیادہ قیمتی ہیں جنھوں نے اس طرح اللہ کو پایا ہو اور اپنے آپ کو اس طرح اللہ کے منصوبہ میں شامل کردیا ہو — نازک مواقع پر اہل ایمان کا باہم متحد رہنا اور صبر کے ساتھ حق پر جمے رہنا وہ چیزیں ہیں جو اہلِ ایمان کو اللہ کی نصرت کا مستحق بناتی ہیں۔