یوں اس حقیقت کو ایک ایسے منظر کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس میں حرکت ہی حرکت ہے ۔ اور یہ حرکت زندگی سے بھرپور ہے اور یہ قرآن کا حسین و جمیل طرز تعبیر ہے ‘ جس میں ایک نظری حقیقت بھی متحرک نظر آتی ہے ۔ “
ان کفار کے اموال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہ آئے گی ‘ وہ اپنے جرائم کا جرم ادا نہ کرسکیں گے ‘ اس لئے کہ وہاں نہ زور چلے گا اور نہ زر۔ یہ لوگ جہنمی ہیں اور وہ دنیا میں جو مال بھی خرچ کرتے ہیں وہ اکارت ہوجائے گا اور بےاثر ہوگا۔ اگرچہ انہوں نے جن کاموں میں مال خرچ کیا وہ اسے کار خیر سمجھتے ہیں ۔ اس لئے کہ خیر وہی ہوتی ہے جس کی کونپلیں شاخ ایمان سے پھوٹیں اور جن کا تعلق ایمان سے ہو ‘ لیکن قرآن کریم اس کی تعبیر اس طرح نہیں کرتا جس طرح ہم کرتے ہیں ۔ وہ اس حقیقت کو ایک زندہ اور متحرک منظر کی صورت میں پیش کرتا ہے ‘ جو نبض کی طرح متحرک ہو ۔