You are reading a tafsir for the group of verses 39:8 to 39:9
۞ واذا مس الانسان ضر دعا ربه منيبا اليه ثم اذا خوله نعمة منه نسي ما كان يدعو اليه من قبل وجعل لله اندادا ليضل عن سبيله قل تمتع بكفرك قليلا انك من اصحاب النار ٨ امن هو قانت اناء الليل ساجدا وقايما يحذر الاخرة ويرجو رحمة ربه قل هل يستوي الذين يعلمون والذين لا يعلمون انما يتذكر اولو الالباب ٩
۞ وَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَـٰنَ ضُرٌّۭ دَعَا رَبَّهُۥ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُۥ نِعْمَةًۭ مِّنْهُ نَسِىَ مَا كَانَ يَدْعُوٓا۟ إِلَيْهِ مِن قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادًۭا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِۦ ۚ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا ۖ إِنَّكَ مِنْ أَصْحَـٰبِ ٱلنَّارِ ٨ أَمَّنْ هُوَ قَـٰنِتٌ ءَانَآءَ ٱلَّيْلِ سَاجِدًۭا وَقَآئِمًۭا يَحْذَرُ ٱلْـَٔاخِرَةَ وَيَرْجُوا۟ رَحْمَةَ رَبِّهِۦ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ ٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ہر آدمی پر ایسے لمحات آتے ہیں جب کہ وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتاہے۔ وہ جن چیزوں کو اپنا سہارا سمجھ رہا تھا وہ بھی اس نازک لمحہ میں اس کے مدد گار نہیں بنتے۔ اس وقت آدمی سب کچھ بھول کر خدا کو پکارنے لگتاہے۔ اس طرح مصیبت کی گھڑیوں میں ہر آدمی جان لیتاہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مگر مصیبت دور ہوتے ہی وہ دوبارہ پہلے کی طرح بن جاتاہے۔

انسان کی مزید سرکشی یہ ہے کہ وہ اپنی نجات کو خدا کے سوا دوسری چیزوں کی طرف منسوب کرنے لگتاہے۔ کچھ لوگ اس کو اسباب کا کرشمہ بتاتے ہیں اور کچھ لوگ فرضی معبودوں کا کرشمہ۔ آدمی اگر غلطی کرکے خاموش رہے تو یہ صرف ایک شخص کا گمراہ ہونا ہے۔ مگر جب وہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کےلیے اس کی جھوٹی توجیہ کرنے لگے تو وہ گمراہ ہونے کے ساتھ گمراہ کرنے والا بھی بنا۔

ایک انسان وہ ہے جس کو صرف مادی غم بے قرار کرے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کو خدا کی یاد بے قرار کردیتی ہو۔ یہی دوسرا انسان دراصل خدا والا انسان ہے۔ اس کا اقرارِ خدا حالات کی پیداوار نہیں ہوتا، وہ اس کی شعوری دریافت ہوتا ہے۔ وہ خدا کو ایک ایسی برتر ہستی کی حیثیت سے پاتا ہے کہ اس کی امیدیں اور اس کے اندیشے سب ایک خدا کی ذات کے ساتھ وابستہ ہوجاتے ہیں۔ اس کی بے قراریاں رات کے لمحات میں بھی ا س کو بستر سے جدا کردیتی ہیں۔ اس کی تنہائی غفلت کی تنہائی نہیں ہوتی بلکہ خدا کی یاد کی تنہائی بن جاتی ہے۔

علم والا وہ ہے جس کی نفسیات میں خدا کی یاد سے ہلچل پیدا ہوتی ہو،اور بے علم والا وہ ہے جس کی نفسیات کو صرف مادی حالات بیدار کریں۔ وہ مادی جھٹکوں سے جاگے اور اس کے بعد دوبارہ غفلت کی نیند سو جائے۔