امن هو قانت اناء الليل ساجدا وقايما يحذر الاخرة ويرجو رحمة ربه قل هل يستوي الذين يعلمون والذين لا يعلمون انما يتذكر اولو الالباب ٩
أَمَّنْ هُوَ قَـٰنِتٌ ءَانَآءَ ٱلَّيْلِ سَاجِدًۭا وَقَآئِمًۭا يَحْذَرُ ٱلْـَٔاخِرَةَ وَيَرْجُوا۟ رَحْمَةَ رَبِّهِۦ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ ٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 9 { اَمَّنْ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآئَ الَّـیْلِ سَاجِدًا وَّقَآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ وَیَرْجُوْا رَحْمَۃَ رَبِّہٖ } ”بھلا وہ شخص جو بندگی کرنے والا ہے رات کی گھڑیوں میں ‘ سجود و قیام کرتے ہوئے ‘ وہ آخرت سے ڈرتا رہتا ہے ‘ اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار بھی ہے !“ ان الفاظ کے بعد کی عبارت محذوف ہے اور یہ اسلوب اس سورت میں بار بار آتا ہے۔ آگے چل کر متعدد آیات ایسی ملیں گی جہاں جملوں کو نا مکمل چھوڑ دیا گیا ہے کہ سننے یا پڑھنے والا اپنے علم ‘ ذہن اور ذوق کے مطابق خود مکمل کرلے۔ چناچہ یہاں پر کَمَنْ ھُوَ غَافِلٌ ؟ کے الفاظ سے اس جملے کو مکمل کیا جاسکتا ہے کہ کیا ایک ایسا شخص جو اللہ کا فرمانبردار ہے ‘ وہ اپنی راتوں کی گھڑیاں اللہ کے حضور اس کیفیت میں گزارتا ہے کہ کبھی سجدے میں پڑا ہوا ہے اور کبھی حالت قیام میں ہے ‘ اس کے دل میں آخرت کا خوف بھی ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید بھی ‘ کیا وہ ایک ایسے شخص کے برابر ہوجائے گا جو بالکل غفلت میں پڑا ہوا ہے ؟ { قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ کیا برابر ہوسکتے ہیں وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے ؟“ { اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ } ”حقیقی نصیحت اور سبق تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہیں۔“