You are reading a tafsir for the group of verses 39:49 to 39:52
فاذا مس الانسان ضر دعانا ثم اذا خولناه نعمة منا قال انما اوتيته على علم بل هي فتنة ولاكن اكثرهم لا يعلمون ٤٩ قد قالها الذين من قبلهم فما اغنى عنهم ما كانوا يكسبون ٥٠ فاصابهم سييات ما كسبوا والذين ظلموا من هاولاء سيصيبهم سييات ما كسبوا وما هم بمعجزين ٥١ اولم يعلموا ان الله يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر ان في ذالك لايات لقوم يومنون ٥٢
فَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَـٰنَ ضُرٌّۭ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَـٰهُ نِعْمَةًۭ مِّنَّا قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلْمٍۭ ۚ بَلْ هِىَ فِتْنَةٌۭ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٤٩ قَدْ قَالَهَا ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ٥٠ فَأَصَابَهُمْ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُوا۟ ۚ وَٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْ هَـٰٓؤُلَآءِ سَيُصِيبُهُمْ سَيِّـَٔاتُ مَا كَسَبُوا۟ وَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ ٥١ أَوَلَمْ يَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ ٥٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

دنیا میں آدمی کو جب کوئی چیز ملتی ہے تو وہ اس کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ کر خوش ہوتاہے۔ حالاں کہ دنیا کی چیزیں آزمائش کا سامان ہیں، نہ کہ لیاقت کا انعام۔ اسی حقیقت کو جاننا سب سے بڑا علم ہے۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجھ لے تو اس سے اس کے اندر فخر اور گھمنڈ کی نفسیات ابھرے گی۔ اس کے برعکس، جب آدمی ان کو آزمائش کا سامان سمجھتاہے تو اس کے اندر شکر اور تواضع کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

رزقِ دنیا کی کمی یا زیادتی تمام تر انسانی اختیار سے باہر کی چیز ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے باہر کوئی قوت ہے جو یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کس کو زیادہ ملے اور کس کو کم دیا جائے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رزق کا فیصلہ شخصی لیاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ اس کا فیصلہ کسی اور بنیاد پر ہوتا ہے۔ وہ بنیاد یہی ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، نہ کہ انعام کی جگہ۔ اس ليے یہاں کسی کو جو کچھ ملتاہے وہ اس کے امتحان کا پرچہ ہوتا ہے۔ امتحان لینے والا اپنے فیصلہ کے تحت کسی کو کوئی پرچہ دیتاہے اور کسی کو کوئی پرچہ۔ کسی کو ایک قسم کے حالات میں آزماتا ہے اور کسی کو دوسرے قسم کے حالات میں۔