الله يتوفى الانفس حين موتها والتي لم تمت في منامها فيمسك التي قضى عليها الموت ويرسل الاخرى الى اجل مسمى ان في ذالك لايات لقوم يتفكرون ٤٢
ٱللَّهُ يَتَوَفَّى ٱلْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَٱلَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ ٱلَّتِى قَضَىٰ عَلَيْهَا ٱلْمَوْتَ وَيُرْسِلُ ٱلْأُخْرَىٰٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَفَكَّرُونَ ٤٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
نیند کے وقت آدمی پر بے خبری کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔ اس اعتبار سے نیند گویا موت کے مشابہ ہے۔ پھر جب آدمی سو کر اٹھتا ہے تو دوبارہ وہ ہوش کی حالت میں آجاتا ہے۔ یہ گویا موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی تصویر ہے۔
اس قانونِ فطرت کے تحت ہر آدمی کو آج ہی ابتدائی سطح پر دکھایا جارہا ہے کہ وہ کس طرح مرے گا اور کس طرح وہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوگا۔ آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے تو وہ اسی دنیوی واقعہ میں اپنے ليے آخرت کا سبق پالے گا۔