آیت نمبر 4
یہ ایک استدلالی مفروضہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ کسی کو اپنا شریک بناتا تو اپنی مخلوق میں سے کسی کو شریک کر کے اس کا اعلان کردیتا ۔ اس کا ارادہ تو بےقید ہے ، لیکن اللہ کی ذات ان سے پاک ہے۔ اس لیے اللہ کی طرف نہ بیٹے کی نسبت ہوسکتی ہے ، نہ اللہ کسی کا بیٹا ہے۔ یہ اللہ کی مشیت و ارادہ اور اس کی تقدیر ہے۔ ان چیزوں سے اللہ پاک ہے۔
سبحنه ھو اللہ الواحد القھار (39: 4) ” پاک ہے وہ اس سے ، وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب “۔ اللہ اپنے لیے کسی کو بیٹا کب بناتا ہے۔ وہ تو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ ہر چیز کا خالق ہے۔ ہر چیز کا مدبر ہے۔ ہر چیز اور ہر انسان اس کی ملکیت میں ہے اور وہ جس طرح چاہتا ہے ، تصرف کرتا ہے۔