انسان ہر دور میں غیر اللہ کی عبادت کرتا رہا ہے۔ مگر کوئی شخص یہ کہنے کی ہمت نہیں کرتا کہ اس کی انھیں پسندیدہ ہستیوں نے زمین وآسمان کو بنایا ہے۔ یا تکلیف اور آرام کے واقعات کے حقیقی اسباب ان کے اختیار میں ہیں۔ اس بے یقینی کے باوجود لوگوں کا یہ یقین بڑا عجیب ہے کہ وہ اپنے جھوٹے معبودوں کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔
جب داعی کی دلیلیں مدعو پر بے اثر ثابت ہوں تو اس وقت اس کے پاس کہنے کی جو بات ہوتی ہے وہ یہ کہ — تم جو چاہے کرو، جب آخری فیصلے کا دن آئے گا تو وہ بتادے گا کہ کون حق پر تھا اور کون ناحق پر۔ یہ دلیل کے بعد یقین کا اظہار ہے، اور داعی کا آخری کلمه ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔