زمین پر بارش کا حیرت انگیز نظام، پھر اس سے سبزہ کا اگنا، پھر فصل کی تیاری، ان مادی واقعات میں بے شمار معنوی نصیحتیں ہیں۔ مگر ان نصیحتوں کو وہی لوگ پاتے ہیں جو باتوں کی گہرائی میں اترنے کا مزاج رکھتے ہوں۔
ایک طرف اللہ نے خارجی دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا کہ اس کی ہر چیز حقیقتِ اعلیٰ کی نشانی بن گئی۔ دوسری طرف انسان کے اندر ایسی صلاحیتیں رکھ دیں کہ وہ ان نشانیوں کو پڑھے او ران کو سمجھ سکے۔ اب جو لوگ اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ رکھیں اور ان سے کام لے کر دنیا کی چیزوں پر غور کریں، ان کے سینے میں معرفت کے دروازے کھل جائیں گے۔ اور جو لوگ اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ نہ رکھ سکیں وہ نصیحتوں کے ہجوم میں بھی نصیحت لینے سے محروم رہیںگے۔ وہ دیکھ کر بھی کچھ نہ دیکھیں گے اور سن کر بھی کچھ نہ سنیںگے۔