You are reading a tafsir for the group of verses 37:149 to 37:150
فاستفتهم الربك البنات ولهم البنون ١٤٩ ام خلقنا الملايكة اناثا وهم شاهدون ١٥٠
فَٱسْتَفْتِهِمْ أَلِرَبِّكَ ٱلْبَنَاتُ وَلَهُمُ ٱلْبَنُونَ ١٤٩ أَمْ خَلَقْنَا ٱلْمَلَـٰٓئِكَةَ إِنَـٰثًۭا وَهُمْ شَـٰهِدُونَ ١٥٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

درس نمبر 210 ایک نظر میں

اس سورت کے سبق 2 میں لائے جانے والے قصص نے جن امور پر روشنی ڈالی اور اللہ اور اس کے بندوں کے تعلق کی جو وضاحت کی اور اللہ کی جانب سے اپنے رسولوں کے مکذبین کو جس طرح پکڑا گیا جو غیر اللہ کی بندگی کرتے تھے اور اللہ کے ساتھ خود اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق کو شریک کرتے تھے اور اس حقیقت کی روشنی میں جو درس اول کا موضوع تھی ، اب اس آخری سبق میں رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اس موضوع پر مکالمہ کریں کہ ان تمام حقائق کے مقابلے میں ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حقیقت ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں نیز ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حیثیت ہے جس کے مطابق وہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ اور جنوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے اور ان کو یاد دلائیں کہ تم تو تمنائیں کرتے تھے کہ ہم میں بھی کوئی رسول آجائے اور تم یہ کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی رسول آجائے تو ہم اس کی ہدایات کو بسر و چشم قبول کریں گے لیکن ان تمہارا حال یہ ہے کہ جب رسول آگیا تو تم نے کفر کا رویہ اختیار کرلیا۔ سورت کا خاتمہ اس ریکارڈ پر ہوتا ہے کہ اللہ نے رسولوں کے ساتھ وعدہ کرلیا ہے کہ وہی غالب رہیں گے اور یہ کہ یہ مشرکین اللہ کی طرف جو نسبتیں کرتے ہیں وہ ان سے پاک ہے اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ چناچہ آغاز ہوتا ہے۔

درس نمبر 210 تشریح آیات

149 ۔۔۔ تا۔۔۔ 182

فاستفتھم الربک البنات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (149 – 157)

ان کے اس غلط عقیدے کا ہر طرف سے گھیراؤ کیا جاتا ہے ۔ ان کے خلاف ان کی زبان میں بات کی جاتی ہے اور ان کے سماج میں جو سوچ تھی اسی کو ان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ عربوں کے سماج میں لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ اور وہ بچیوں کی پیدائش کو مصیبت سمجھتے تھے۔ لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابلے میں کم تر مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ فرشتے دیویاں ہیں اور یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ چناچہ اس عقیدے کو ان کی منطق اور سوچ کے مطابق رد کردیا گیا تاکہ وہ دیکھ لیں کہ حقیقت تو دور کی بات ہے خود ان کے تسلیم شدہ معیار کے مطابق بھی ان کا عقیدہ غلط ہے۔

فاستفتھم الربک البنات ولھم النبون (37: 149) ” پھر ذرا ان سے پوچھو کہ تمہارے رب کیلئے تو ہوں بیٹاں اور ان کے لیے ہوں بیٹے “۔ کیا تمہارے دل کو یہ بات لگتی ہے۔ جبکہ تمہارے سماج میں لڑکیاں لڑکوں سے کم تر رتبہ رکھتی ہیں۔ کیا خوب تقسیم ہے تمہاری ، کہ تمہارے لیے ہوں بیٹے اور خالق کے لیے ہوں بیٹیاں یا یہ کہ خود اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں چن لیں اور بیٹے تمہارے لیے چھوڑ دئیے۔ یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔ تمہارے یہ مزعومات کس قدر پوچ ہیں۔ آج تمہارے اندر یہ افسانوی سوچ کیسے پیدا ہوگئی۔ کہاں سے یہ عقیدہ پھیل گیا کہ فرشتے مونث ہیں۔ کیا انہوں نے ان کی پیدائش کو دیکھا ہے ، اس وقت یہ موجود تھے اور انہوں نے ان کی جنس کو معلوم کرلیا ؟ ام خلقنا الملئکۃ اناثا وھم شھدون (37: 150) “ کیا ہم نے ملائکہ کی تخلیق مونث کے طور پر کی اور یہ اس وقت دیکھ رہے تھے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان کے اس مقولے اور عقیدے کو ان کے منصوص الفاظ میں نقل کرکے رد کرتا ہے۔