آیت 147{ وَاَرْسَلْنٰـہُ اِلٰی مِائَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ } ”پھر ہم نے اس کو بھیج دیا ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف۔“ یعنی صحت یاب ہوجانے کے بعد آپ علیہ السلام کو دوبارہ رسالت کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ قرآن میں اس حوالے سے کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ دوبارہ آپ علیہ السلام کو اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا گیا تھا یا کسی اور قوم کی طرف۔ لیکن گمان غالب یہی ہے کہ آپ علیہ السلام دوبارہ اپنی ہی قوم میں مبعوث ہوئے اور اس آیت میں آپ علیہ السلام ہی کی قوم کی تعداد کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ بہر حال سورة یونس میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا تھا۔ سورة یونس کی آیت 98 میں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ یہ استثناء صرف قوم یونس ہی کو حاصل ہے۔ یعنی پوری انسانی تاریخ میں واحد مثال ہے کہ عذاب کے آثار ظاہر ہوجانے کے بعد آپ علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول کرلی گئی۔