You are reading a tafsir for the group of verses 37:139 to 37:142
وان يونس لمن المرسلين ١٣٩ اذ ابق الى الفلك المشحون ١٤٠ فساهم فكان من المدحضين ١٤١ فالتقمه الحوت وهو مليم ١٤٢
وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ١٣٩ إِذْ أَبَقَ إِلَى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ ١٤٠ فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُدْحَضِينَ ١٤١ فَٱلْتَقَمَهُ ٱلْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌۭ ١٤٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

وان یونس لمن المرسلین۔۔۔۔ فمتعنھم الی حین (139 – 148)

قرآن کریم اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ قوم یونس کہاں تھی۔ یہ بات قرآن سے صاف صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ کسی ساحلی بستی میں آباد تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یونس کی قوم کی جانب سے مسلسل تکذیب کی وجہ سے ان کا دل بھر آیا تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنی قوم کو یہ وارننگ دے دی کہ جلد ہی تم پر عذاب آنے والا ہے۔ آپ نے اپنی قوم سے سخت غصہ ہوکر نکل کھڑے ہوئے۔ چناچہ آپ سمندر کے ساحل پر چلے گئے۔ اور وہاں ایک ایسی کشتی میں سوار ہوگئے جو سواریوں سے بھری ہوئی تھی۔ سمندر کے درمیان میں کشتی کو طوفان نے آلیا اور وہ موجوں کی لپیٹ میں آگئی۔ لوگوں کی طرف سے اعلان ہوا ، کشتی کے سواروں میں کوئی شخص ایسا ہے جس نے غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور وہ مغضوب علیہ ہے اور یہ بات لازمی ہے کہ ایسے شخص کو سمندر میں پھینک دیا جائے تاکہ کشتی نجات پاجائے۔ اس لیے ان لوگوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کا قرعہ نکلا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔ یونس (علیہ السلام) کا قرعہ نکل آیا۔ ان لوگوں کے اندر یونس (علیہ السلام) نیکی اور تقویٰ میں معروف تھے۔ لیکن جب ان کے نام بار بار قرعہ نکلا تو انہوں نے انہیں سمندر میں پھینک دیا یا خود وہ سمندر میں کود گئے۔ چناچہ ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ اس وقت سب لوگ ان کو ملامت کر رہے تھے یعنی وہ ملامت کے بظاہر مستحق تھے کیونکہ انہوں نے اس مہم کو چھوڑ دیا تھا جس کے لیے ان کو بھیجا گیا تھا اور اپنی قوم سے ناراض ہوکر ان کو چھوڑ دیا حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہ آئی تھی۔ جب مچھلی کے پیٹ میں انہوں نے احساس کرلیا اس ظلم سے استغفار کرنا شروع کردیا۔ اور یہ اعتراف کرلیا کہ میں نے ظلم کیا ہے۔

لا الہ الا ۔۔۔۔ من الظالمین ” نہیں ہے کوئی حاکم مگر تو ، تو پاک ہے ، بیشک میں ظالموں میں سے تھا “۔ اللہ نے ان کی دعا کو سنا اور قبول کرلیا۔ چناچہ مچھلی نے ان کو ساحل پر اگل دیا۔