وان لوطا لمن المرسلين ١٣٣ اذ نجيناه واهله اجمعين ١٣٤ الا عجوزا في الغابرين ١٣٥ ثم دمرنا الاخرين ١٣٦ وانكم لتمرون عليهم مصبحين ١٣٧ وبالليل افلا تعقلون ١٣٨
وَإِنَّ لُوطًۭا لَّمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ١٣٣ إِذْ نَجَّيْنَـٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ أَجْمَعِينَ ١٣٤ إِلَّا عَجُوزًۭا فِى ٱلْغَـٰبِرِينَ ١٣٥ ثُمَّ دَمَّرْنَا ٱلْـَٔاخَرِينَ ١٣٦ وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ ١٣٧ وَبِٱلَّيْلِ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ١٣٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔
قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔