You are reading a tafsir for the group of verses 36:69 to 36:70
وما علمناه الشعر وما ينبغي له ان هو الا ذكر وقران مبين ٦٩ لينذر من كان حيا ويحق القول على الكافرين ٧٠
وَمَا عَلَّمْنَـٰهُ ٱلشِّعْرَ وَمَا يَنۢبَغِى لَهُۥٓ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌۭ وَقُرْءَانٌۭ مُّبِينٌۭ ٦٩ لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّۭا وَيَحِقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَى ٱلْكَـٰفِرِينَ ٧٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قرآن کا معجزانہ اسلوب سننے والوں کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔ چنانچہ مخالفین نے لوگوں کے تاثر کو گھٹانے کےلیے یہ کہنا شروع کیاکہ یہ ایک شاعرانہ کلام ہے، نہ کہ کوئی خدائی کلام۔

مگر یہ سراسر بے اصل بات ہے۔ قرآن میں اتھاہ حدتک جو سنجیدہ فضا ہے، اس میں حقائق غیب کا جو بے مثال انکشاف ہے، اس میں معرفت حق کی جو اعلیٰ ترین تعلیمات ہیں، اس میں شروع سے آخر تک جو نادر اتحاد خیال ہے، اس میں خدا کی خدائی کی جو ناقابلِ بیان جھلکیاں ہیں،یہ سب یقینی طور پر اشارہ کر رہی ہیں کہ قرآن اس سے برتر کلام ہے کہ اس کو انسانی شاعری کہاجاسکے۔

مگر حقیقت کو ہمیشہ زندہ لوگ مانتے ہیں۔ اسی طرح قرآن کی صداقت بھی صرف زندہ انسانوں کو نظر آئے گی، مُردہ انسان اس کو دیکھنے والے نہیں بن سکتے۔