واذا قيل لهم انفقوا مما رزقكم الله قال الذين كفروا للذين امنوا انطعم من لو يشاء الله اطعمه ان انتم الا في ضلال مبين ٤٧
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَآءُ ٱللَّهُ أَطْعَمَهُۥٓ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍۢ ٤٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 47 { وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ } ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خرچ کرو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں دیا ہے“ یعنی اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے غریبوں کی حاجت روائی کرو ‘ بھوکوں کو کھلائو ‘ یتیموں کی سرپرستی کرو ‘ خلق ِخدا کی بہبود اور بھلائی کے دوسرے کاموں میں خرچ کرو۔ { قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآئُ اللّٰہُ اَطْعَمَہٗٓ} ”تو یہ کافر کہتے ہیں اہل ِ ایمان سے کہ کیا ہم انہیں کھلائیں جنہیں اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا !“ اس کے جواب میں ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ اللہ تو ہرچیز پر قادر ہے۔ وہ اگر چاہتا کہ یہ لوگ بھوکے نہ رہیں تو وہ انہیں خود ہی وافر رزق عطا کردیتا ‘ لیکن اگر اللہ نے انہیں ان کی ضروریات کے مطابق رزق نہیں دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود انہیں اسی حالت میں رکھنا چاہتا ہے۔ تو کیا ہم انہیں کھلائیں جنہیں اللہ نے ہی کھلانا نہیں چاہا ؟ { اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”تم تو خود ہی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہو !“ یہ جواب ہے ان کافروں کا نصیحت کرنے والوں کو کہ تم لوگ ہمیں کیا نصیحتیں کرتے ہو ‘ تمہاری تو مت ماری گئی ہے ‘ تم تو خود بھٹکے ہوئے ہو ‘ تمہاری یہ بات اور نصیحت عقل اور منطق ہی کے خلاف ہے کہ خوشحال لوگ غرباء و مساکین کا خیال رکھیں اور بھوکوں کو کھانا کھلائیں۔