You are reading a tafsir for the group of verses 36:33 to 36:36
واية لهم الارض الميتة احييناها واخرجنا منها حبا فمنه ياكلون ٣٣ وجعلنا فيها جنات من نخيل واعناب وفجرنا فيها من العيون ٣٤ لياكلوا من ثمره وما عملته ايديهم افلا يشكرون ٣٥ سبحان الذي خلق الازواج كلها مما تنبت الارض ومن انفسهم ومما لا يعلمون ٣٦
وَءَايَةٌۭ لَّهُمُ ٱلْأَرْضُ ٱلْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَـٰهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّۭا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ ٣٣ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّـٰتٍۢ مِّن نَّخِيلٍۢ وَأَعْنَـٰبٍۢ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ ٱلْعُيُونِ ٣٤ لِيَأْكُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ ٣٥ سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْأَزْوَٰجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ ٣٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

زمین کی سطح پر زرخیز مٹی کا جمع ہونا، اس کےلیے پانی اور دھوپ اور ہوا کا انتظام، پھر بیج کے اندر نشوونما کی صلاحیت، اس طرح کے بے شمار معلوم اور غیر معلوم اسباب ہیں جو بالآخر غلہ اور پھل اور سبزی کی شکل اختیار کرکے انسان کی خوراک بنتے ہیں۔ یہ پورا نظام انسان کے بنائے بغیر بنا ہے۔ اس کو وجود میں لانا اور اس کو قائم رکھنا سراسر خدا کی رحمت سے ہوتا ہے۔ اگر انسان اس پر سوچے تو وہ شکر کے جذبہ سے بھر جائے ۔

پھر اسی نظام میں ایک عظیم تر حقیقت کی نشانی بھی موجود ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا کی تمام چیزوں میں جوڑے کا اصول کارفرما ہے۔ پھر جب کائنات کا نظام اس اصول پر قائم ہے کہ یہاں تمام چیزیں اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنی تکمیل کریں تو موجودہ دنیا کا بھی ایک جوڑا ہونا چاہيے جس کے ملنے سے اس کی تکمیل ہوتی ہو۔ اس طرح موجودہ دنیا میں جوڑے کانظام آخرت کے امکان کو ثابت کردیتاہے۔