افمن زين له سوء عمله فراه حسنا فان الله يضل من يشاء ويهدي من يشاء فلا تذهب نفسك عليهم حسرات ان الله عليم بما يصنعون ٨
أَفَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ فَرَءَاهُ حَسَنًۭا ۖ فَإِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ ۖ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَٰتٍ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِمَا يَصْنَعُونَ ٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ سوچے اور حق اور ناحق کے درمیان تمیز کرسکے۔ جو آدمی اپنی اس فطری صلاحیت کو استعمال کرتا ہے وہ ہدایت پاتا ہے۔ اور جوشخص اس فطری صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا وہ ہدایت نہیں پاتا۔

آدمی کے سامنے جب حق آئے تو فوراً اس کے ذہن کو جھٹکا لگتا ہے۔ اس وقت اس کےلیے دوراستے ہوتے ہیں۔ اگر وہ حق کا اعتراف کرلے تو اس کا ذہن صحیح سمت میں چل پڑتا ہے۔ وہ حق کا مسافر بن جاتا ہے اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ کوئی مصلحت یا کوئی نفسیاتی پیچیدگی اس کے سامنے آ ئے اور وہ اس سے متاثر ہو کر حق کا اعتراف کرنے سے رک جائے تو اس کا ذہن اپنے عدم اعتراف کو جائز ثابت کرنے کےلیے باتیں گھڑنا شروع کرتا ہے۔ وہ اپنے برے عمل کو اچھا عمل ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے۔ یہ ایک ذہنی بیماری ہے۔ اور جو لوگ اس قسم کی ذہنی بیماری میں مبتلا ہو جائیں وہ کبھی حق کا اعترا ف نہیں کرپاتے۔یہاں تک کہ اسی حال میں مرکر وہ خدا کے یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ تاکہ اپنے کيے کا انجام پائیں۔