You are reading a tafsir for the group of verses 35:32 to 35:35
ثم اورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا فمنهم ظالم لنفسه ومنهم مقتصد ومنهم سابق بالخيرات باذن الله ذالك هو الفضل الكبير ٣٢ جنات عدن يدخلونها يحلون فيها من اساور من ذهب ولولوا ولباسهم فيها حرير ٣٣ وقالوا الحمد لله الذي اذهب عنا الحزن ان ربنا لغفور شكور ٣٤ الذي احلنا دار المقامة من فضله لا يمسنا فيها نصب ولا يمسنا فيها لغوب ٣٥
ثُمَّ أَوْرَثْنَا ٱلْكِتَـٰبَ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌۭ لِّنَفْسِهِۦ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌۭ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِٱلْخَيْرَٰتِ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْكَبِيرُ ٣٢ جَنَّـٰتُ عَدْنٍۢ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍۢ وَلُؤْلُؤًۭا ۖ وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌۭ ٣٣ وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِىٓ أَذْهَبَ عَنَّا ٱلْحَزَنَ ۖ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌۭ شَكُورٌ ٣٤ ٱلَّذِىٓ أَحَلَّنَا دَارَ ٱلْمُقَامَةِ مِن فَضْلِهِۦ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌۭ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌۭ ٣٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

حضرت یعقوب حضرت ابراہیم کے پوتے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک تمام پیغمبر بنی اسرائیل کی نسل میں پیدا ہوتے رہے۔ اس طرح تقریباً دو ہزار سال تک پیغمبری کا سلسلہ یہود کی نسل میں جاری رہا۔ مگر بعد کے دور میں یہود اس قابل نہ رہے کہ وہ کتابِ الٰہی کے حامل بن سکیں۔ چنانچہ دوسری زندہ قوم (بنو اسماعیل) کو کتابِ الٰہی کا حامل بننے کےلیے منتخب کیا گیا۔ بنو اسماعیل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اسی فیصلہ الٰہی کی تعمیل تھی۔ اس آیت میں ’’منتخب بندوں‘‘ سے مراد یہی بنو اسماعیل ہیں۔

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو اسماعیل کے سامنے قرآن پیش کیا تو ان میں تین قسم کے لوگ نکلے۔ ایک وہ جو اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ دوسرے وہ جنھوں نے درمیانی راہ اختیار کی۔ تیسرا گروہ آگے بڑھنے والوں کاتھا۔ یہی وہ لوگ ہیںجنھوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اسلام کی عظیم تاریخ بنائی۔

قرآن کا ساتھ دینے کےلیے انھیں ہر قسم کی راحت سے محروم ہونا پڑا۔ اس کے نتیجے میں ان کی زندگی عملاً صبر اور مشقت کی زندگی بن گئی۔ اس قربانی کی قیمت انھیں آخرت میں اس طرح ملے گی کہ خدا انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جہاں وہ ہمیشہ کےلیے غم اور تکلیف سے محفوظ ہوجائیں گے۔