آیت 11 { وَاللّٰہُ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَکُمْ اَزْوَاجًا } ”اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ‘ پھر نطفے سے ‘ پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنا دیا۔“ { وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہٖ } ”اور نہ ہی کسی مادہ کو کوئی حمل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ جنتی ہے مگر یہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔“ انسان ہو یا حیوان ‘ اس حوالے سے کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں۔ { وَمَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّلَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِہٖٓ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ } ”اور کسی عمر والے کو عمر نہیں دی جاتی اور نہ ہی کسی کی عمر میں کمی کی جاتی ہے مگر یہ سب ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے۔“ { اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ} ”یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔“ یعنی اپنی نوع species کے اعتبار سے انسان کی ایک اوسط average عمر ہے ‘ لیکن کوئی شخص اس اوسط عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہوجاتا ہے جبکہ ایک دوسرا شخص اوسط عمر کے بعد بھی طویل عرصہ تک زندہ رہتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ایک طے شدہ نظام کے تحت وقوع پذیر ہوتا ہے۔ کون طویل عمر پائے گا ‘ کون چھوٹی عمر میں فوت ہوجائے گا اور کس کو کب موت آئے گی ‘ اس بارے میں تمام فیصلے اللہ کے ہاں پہلے سے طے شدہ ہیں۔