دنیا کی تخلیق حق پر ہوئی ہے۔ یہاں سارا زور حق کی طرف ہے۔ یہاں تمام دلائل حق کی تائید کرتے ہیں۔ حقیقت واقعہ کے اعتبار سے یہاں باطل کو کوئی زور اور کوئی دلیل حاصل نہیں۔ ایسی حالت میں یہ ہونا چاہيے کہ حق یہاں ہمیشہ سربلند رہے اور باطل یہاں سراسر بے وزن ہوکر رہ جائے مگر عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ اس دنیامیں حق اتنا طاقتور نہیں کہ وہ خود اپنے زور پر باطل کا خاتمہ کردے اور باطل اتنا بے وقعت نہیں کہ اس کی بنیاد پر کسی شخص کےلیے عزت اور سربلندی حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں آزمائش کا قانون جاری ہے۔ اس ليے یہاں باطل کو بھی ابھرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مگر یہ صورت حال عارضی طورپر صرف امتحان کی مدت تک ہے۔ قیامت آتے ہی یہ غیر واقعی صورت حال یکسر ختم ہوجائے گی۔ اس وقت تمام نظری اور عملی زور صرف حق کی طرف ہوگا اور باطل سراسر بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔
یہ واقعہ اپنی کامل صورت میں قیامت میں ظاہر ہوگا۔ مگر جب اللہ چاہتا ہے اس کو جزئی طورپر موجودہ دنیا میں ظاہر کردیتا ہے تاکہ لوگوں کےلیے سبق ہو۔ دور اول میںاسلام کا غلبہ اسی قسم کا ایک جزئی اظہار تھا۔ چنانچہ جب مکہ فتح ہوا اور توحید کو شرک کے اوپر بالاتری حاصل ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ آیت تھی جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (