قل ان ضللت۔۔۔۔ سمیع قریب (50)
اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں تو اس کا وہال تم پر نہ ہوگا ۔ میں خود ذمہ دار ہوں گا اور اگر میں ہدایت ہر ہوں تو اللہ نے بذریعہ وحی مجھے یہ ہدایات دی ہیں ۔ میں خود از خود کوئی کام کرنے کا مجاز نہیں ہوں ۔ میں تو خود بھی اسیراشارہ ابرر دہوں ۔
انہ سمیع قریب (34: 50) ” وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے “۔ یہ لوگ اللہ کو قریب پاتے تھے ۔ ان کے تصور میں اللہ کی یہ صفات بیٹھی ہوئی تھیں اور ان کی حقیقی زندگی میں یہ صفات موثر تھیں ۔ ان کو یقین تھا کہ اللہ سمیع ہے اور قریب ہے ۔ اور وہ ان کے امور کو براہ راست دیکھ رہا ہے ۔ ان کی شکایت اور ان کے مشورے سب اللہ کے سامنے ہیں ۔ اللہ نے اپنے بندوں کو چھوڑ نہیں رکھا اور نہ کسی کے حوالے کررکھا ہے ۔ چناچہ ان کی زندگی اللہ کی انس و محبت میں گزرتی تھی ۔ اللہ کے زیر سایہ تھی ۔ اس کے پڑوس میں تھی ۔ اس کی مہربانیوں میں تھی ۔ اس کی نگرانی میں تھی اور یہ عقیدہ وہ اپنے قصوس کے اندر زندہ پاتے تھے ، زندہ اور سادہ شکل میں۔ یہ صفات محض تصور ہی نہ تھیں بلکہ زندہ اور عملی تھیں انہ سمیع قریب (34: 50)