پیغمبر کے معاصرین نے پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیا۔ مگر اس کے پیچھے ضد اور تعصب کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ ضد اور تعصب سے خالی ہو کر سوچتے، خواہ اکیلے اکیلے سوچتے، یا چند آدمی مل کر اجتماعی طورپر غور کرتے، تو وہ پاتے کہ ان کا پیغمبر کوئی دیوانہ آدمی نہیں ہے۔ آپ کی سابقہ زندگی آپ کی سنجیدگی کی گواہی دیتی ۔ آپ کا درد مندانہ انداز بتاتا کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہی آپ کے دل کی آواز ہے۔ آپ کے کلام کا حکیمانہ اسلوب اس کی صحت کی داخلی شہادت نظر آتا۔ آپ کا کسی معاوضہ کا طالب نہ ہونا ظاہر کرتا کہ آپ نے اس کام کو محض اللہ کی خاطر شروع کیا ہے، نہ کہ ذاتی تجارت کی خاطر۔ غیر جانب دارانہ غور وفکر میں وہ جان لیتے کہ آپ کی بے قراری جنون کی بے قرار ی نہیں ہے بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ آپ جس خطرہ سے ڈرانے کےلیے اٹھے ہیں اس کو اپنی آنکھوں سے آتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ مگر وہ دعوت حق کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے اس ليے یہ کھلے ہوئے حقائق ان کو نظر بھی نہ آسکے۔