قل ما سالتكم من اجر فهو لكم ان اجري الا على الله وهو على كل شيء شهيد ٤٧
قُلْ مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍۢ فَهُوَ لَكُمْ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدٌۭ ٤٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قل ما سالتکم۔۔۔۔۔ کل شیئ شھید (47) ” “۔ پہلے تو آپ نے ان کو دعوت دی کہ تم لوگ اکیلئے یا دو دو مل کر تحریک اسلامی پر غور کرو کہ تمہارے ساتھی کی دعوت میں آخر جنوں کی کیا بات ہے۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ لوگوں کے ڈرانے میں اس قدر مگن ہیں اور لوگوں کو شدید عذاب سے ڈرا رہے ہیں۔ آخر اس میں ان کا مفاد کیا ہے۔ اس کے اسباب کیا ہیں ۔ حضور ﷺ کو کیا فائدہ ہے۔ اس حقیقت کی طرف ان لوگوں کی سوچ اور قوت استدلال کو نہایت ہی موثر انداز میں متوجہ کیا جاتا ہے۔

قل ما سالتکم من اجر فھو لکم (34: 47) ” کہو میں اگر تم سے کوئی اجر مانگتا ہوں تو وہ تم ہی لے لو “۔ یہ اجر تمہیں ہی مبارک ہو۔ یہ نہایت ہی طنز یہ انداز ہے اور اس میں ان کے لیے سرزتش بھی ہے ۔

ان اجری الا علی اللہ (34: 47) ” میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے “۔ اسی نے مجھے اس کام پر لگایا ہے ۔ وہی معاوضہ دے گا ۔ میں اسی سے امید رکھتا ہوں اور جو شخص اللہ کے عطیہ کا امید وار ہو ، اس کے نزدیک پھر اہل دنیا کا ہر عطیہ حقیر اور بےقیمت ہوجاتا ہے ۔ اس کے بارے میں ایسا شخص سوچتاہی نہیں ہے ۔

وھو علی کل شئی شھید (34: 47) ” وہ ہر چیز پر گواہ ہے “۔ وہ جانتا ہے ، دیکھتا ہے اور اس سے کوئی چیز خفیہ نہیں ہوتی ۔ وہ میرے اوپر گواہ ہے ۔ میں جو کچھ ساچتا ہوں ، جو کچھ کہتا ہوں اور جو کچھ کرتا ہوں۔ اب تیسرا مضراب :