قل انما اعظکم ۔۔۔۔۔ عذاب شدید (46) ” “۔ یعنی اللہ کے مقابلے میں غور رو ، اور یہ غور اپنی ذاتی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر دو ۔ اپنی مصلحتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے غور کرو۔ دنیا کے حالات اور میلانات سے ہٹ کر کرو ، اور ان وسوسوں اور خلجانات سے ہٹ کر گرجو دلوں میں پیدا ہوتے ہیں ، یہ سب چیزیں انسان کو اللہ سے دور کرتی ہیں ، غرض تمہاری سوسائٹی اور تمہارے معاشرے کے اندر راسخ تصورات سے ہٹ کر تم اللہ کے معاملے پر غور کرو۔
یعنی دعوت اسلامی کے مضمون کو سادہ انداز میں لو ، اپنے رائج تصورات کے حوالے سے نہ لو۔ نہ خالص منطقی اور فلسفیانہ انداز میں لو جس میں لفاظی تو بہت ہوتی ہے لیکن سیدھی سادہ حقیقت کو جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ منطقیانہ سوچ کے بجائے فطرت کی سنجیدہ سوچ کا راستہ اختیار کرو۔ جس میں شورو شغب کم ہوتا ہے اور خلط مبحث نہیں ہوتا نہ سوچ میں ٹیڑھ ہوتی ہے اور نہ فکر میں گدلاپن ہوتا ہے بلکہ صاف و شفاف سوچ ہوتی ہے۔
لیکن فطری انداز میں تلاش حقیقت بھی دراصل حقیقت کی تلاش ہی ہوتی ہے۔ جبکہ یہ سوچنے کا سیدھا سادہ طریقہ ہوتا ہے۔ جس پر معاشرے کے رائج افکار اثر انداز نہیں ہوتے ، نہ معاشرے کے اندر رائج غلط رسم و رواج اثر ڈالتے ہیں صرف خدا کا خوف اور اللہ کی نگرانی ہی بڑی موثر ہوتی ہے۔ اس سوچ کا راستہ صرف ایک ہی ہے خدا کا راستہ ، خدا کے سامنے جھکنے کا راستہ ، خدا کی رضا کا راستہ۔ اور بےلوث راستہ جس میں کوئی ذاتی خواہش ، کوئی مصلحت ، کوئی مفاد موثر نہ ہو ، خالص انداز میں فطری سوچ جس پر
کوئی خارجی عوامل اثر انداز نہ ہوں۔ یعنی صرف اللہ کے لیے سوچ۔
ان تقوموا للہ مثنی وفرادی (34: 46) ” خدا کے لیے تم اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑاؤ “۔ دو دو اس طرح کہ دعوت اسلامی کے مسئلے پر ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرہ کرو ، یعنی محدود تعداد میں شوروشغب سے علیحدہ ہوکر مذاکرہ کرو ، عوام الناس کی بھیڑ سے الگ ہوکر۔ حالات اور عوام سے متاثر ہوئے بغیر کیونکہ عوام الناس وقتی حالات سے متاثر ہوتے جاتے ہیں ، اور اکیلے غور کرو ، جو غوروفکر کا سب سے موثر طریقہ ہے۔
ثم تتفکروا ما بصاحبکم من جنۃ (34: 46) ” سوچو کہ تمہارے صاحب میں آخر کون سی بات ہے جو جنون کی ہو “۔ آپ کے سامنے تو وہ عقل ، تدبر اور نہایت ہی دانائی کی بات کرتا ہے۔ اور آخر وہ کون سی بات ایسی کرتا ہے جس سے معلوم ہو کہ اس کی عقل میں فرق ہے۔ وہ تو نہایت ہی مضبوط ، قوی اور واضح بات کرتا ہے۔
ان ھو الا نذیر لکم بین یدی عذاب شدید (34: 46) ” وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے “۔ شدید ترین عذاب کے واقع ہونے کا امکان انسان کو غوروفکر پر آمادہ کرتا ہے اور ڈرانے والے نے متنبہ بھی کردیا تاکہ جو بچنا چاہتا ہے ، بچ جائے۔ مگر ایک شخص چلاتا ہے کہ آگ لگ گئی ہے بھاگو۔ اگر کوئی نہیں بھاگتا تو اپنے آپ کو خطرے میں ڈالتا ہے جبکہ آواز دینے والا ہے بھی سچا شخص اور نہایت ہی بہترین کردار کا مالک ہے۔
امام احمد نے ابو نعیم شیر سے عبد اللہ ابن بریدہ ہے ، اس نے اپنے باپ سے ، کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ہم پر نکلے تو تین بار آواز دی لوگو ، تمہیں معلوم ہے کہ میری اور تمہاری مثال کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا اللہ اور رسول اللہ خوب جانتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” میری اور آپ لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قوم کو کسی دشمن کے حملے کا خطرہ ہو۔ انہوں نے ایک آدمی بھیجا کہ وہ حالات معلوم کرکے بتائے۔ یہ شخص دیکھ رہا تھا کہ دشمن آگیا۔ وہ چلانے لگا اور اسے ڈر تھا کہ لوگوں کو اس کی آواز پہنچنے سے پہلے ہی اسے دشمن پکڑ نہ لے۔ تو اس نے دور ہی سے کپڑا ہلایا ، لوگو ، دشمن آگیا ، دشمن آگیا ، لوگو تم پر حملہ ہوگیا “۔ اور ایک دوسری روایت میں حضور ﷺ سے مروی ہے کہ میں اور قیامت ایک ہی ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ قیامت مجھ سے بھی پہلے آجائے ۔ یہ تو تھی پہلی ضرب ۔ اب دوسری ضرب ملاحظہ ہو۔