درس نمبر 198 ایک نظر میں
اس سورة کے اس آخری سبق کا آغاز مشرکین اور نبی ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں ان کے اقوال سے ہوتا ہے۔ ان کو یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ ان جیسے لوگوں کا انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ انسانی تاریخ کی ایسی اقوام کی داستانوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو ان سے زیادہ قوی ، زیادہ علم والی اور زیادہ مالدار تھیں ، جن کو اس دنیا ہی میں پکڑ لیا گیا۔
اس کے بعد عقل و خرد کے تاروں پر مسلسل شدید ترین ضربات لگائی جاتی ہیں۔ پہلی ضرب میں ان کو یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ ذرا تنہائی میں ، تمام رکاوٹوں اور پردوں کو ہٹا کر جو انہیں صحیح فکر و نظر سے روکتے ہیں اللہ کے بارے میں سوچیں۔ دوسری ضرب میں ، ان کو اس حقیقت پر غور کرنے کے لئے دعوت دی گئی ہے کہ وہ دیکھیں کہ نبی کریم ﷺ ان لوگوں کو مسلسل جو دعوت دے رہے ہیں اس دعوت میں ان کا کوئی مفاد بھی نہیں ہے اور آپ ان سے اجر بھی طلب نہیں کرتے تو آخر یہ لوگ حضور ﷺ کی دعوت میں شک کیوں کرتے ہیں اور منہ کیوں موڑتے ہیں۔ اس کے بعد قل قل قل سے یہ ضربات مسلسل لگائی جاتی ہیں اور یہ اس قدر زور دار ہیں کہ اگر کسی دل میں ذرہ برابر بھی شعور ہو تو وہ متاثر ہوئے نظر نہیں رہ سکتا۔
اور یہ سبق قیامت کے ایک نہایت ہی متحرک منظر پر ختم ہوتا ہے جو نہایت ہی متحرک ہے اور سابقہ ضربات کے ساتھ مناسب ہے۔
درس نمبر 198 تشریح آیات
43 ۔۔۔ تا۔۔۔ 54