You are reading a tafsir for the group of verses 34:40 to 34:42
ويوم يحشرهم جميعا ثم يقول للملايكة اهاولاء اياكم كانوا يعبدون ٤٠ قالوا سبحانك انت ولينا من دونهم بل كانوا يعبدون الجن اكثرهم بهم مومنون ٤١ فاليوم لا يملك بعضكم لبعض نفعا ولا ضرا ونقول للذين ظلموا ذوقوا عذاب النار التي كنتم بها تكذبون ٤٢
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًۭا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ أَهَـٰٓؤُلَآءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ ٤٠ قَالُوا۟ سُبْحَـٰنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِم ۖ بَلْ كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ ٱلْجِنَّ ۖ أَكْثَرُهُم بِهِم مُّؤْمِنُونَ ٤١ فَٱلْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍۢ نَّفْعًۭا وَلَا ضَرًّۭا وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ ٤٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ویوم یحشرھم جمیعا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنتم بھا تکذبون (40 – 42)

ان فرشتوں کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے یا ان کو وہ اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ اب ان کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، فرشتے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ گویا یہ بندگی اور عبادت ان کی جانب سے لغو اور کالعدم حرکت تھی۔ گویا یہ ہوئی ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بندگی دراصل شیطان کی بندگی کرتے تھے تو گویا شیطان کی بندگی کرتے تھے۔ جنوں کی بندگی تو عربوں میں ۔۔۔ تھا۔ بعض لوگ ایسے تھے جو جنوں کی بندگی بھی کرتے تھے اور ان سے استعانت بھی کرتے تھے۔

بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون (34: 41) ” دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے تھے “۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ قصہ سلیمان (علیہ السلام) کا ان مسائل کے ساتھ تعلق ہے۔ یہ قرآن کریم کا خاص انداز ہے کہ قصص سورة کے موضوع سے مربوط ہوتے ہیں۔

یہ منظر اسکرین پر چل رہا تھا کہ اچانک کلام کا اسلوب بدل جاتا ہے اور براہ راست خطاب شروع ہوجاتا ہے اور یہ شرمسار کنندہ باتیں ان سے کہی جاتی ہیں۔

فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولاضرا (34: 42) ” آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان “۔ نہ فرشتے کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ نہ یہ کفار ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ وہ آگ جس کی ظالم تکذیب کرتے تھے اور جس کے بارے میں وہ مطالبہ کرتے تھے کہ لاؤ وہ آگ ، اسے اب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔

ونقول للذین ۔۔۔۔۔ بھا تکذبون (34: 42) ” اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوجاتا ہے جس کا مرکزی مضمون حساب و کتاب ، سزا و جزاء اور قیام قیامت ہے ، جس طرح دوسرے اسباق کا بھی یہی مضمون رہا ہے۔