قل ان ربي يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر ولاكن اكثر الناس لا يعلمون ٣٦
قُلْ إِنَّ رَبِّى يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ٣٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قل ان ربی ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (26) ” “۔ یہ مسئلہ یعنی رزق کی فراوانی اور تنگی کا مسئلہ ، عیش و عشرت کے وسائل کی ملکیت اور زیب وزینت کے ذرائع اور ان سے محرومی کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے کئی لوگوں کے دلوں میں بےحد خلجان پیدا ہوتا ہے۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ اہل شر ، اہل فساد اور باطل پرستوں پر دنیا کے مال و دولت کے دروازے کھلے ہیں۔ اہل حق ، اہل خیر اور نیک لوگ ان سے محروم ہیں اس لیے بعض لوگ یوں سوچتے ہیں کہ اگر اللہ ان لوگوں سے ناراض ہوتا تو ان پر وسائل کی یوں بارش کیوں کرتا۔ بعض اوقات لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نیکی ، سچائی اور پاکبازی ہمیشہ محروم رہتی ہے

یہاں قرآن مجید دنیا کے مال و متاع اور سازوسامان اور ان قدروں کے درمیان جدائی کردیتا ہے جو اللہ کی نظروں میں بلند ہیں۔ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ رزق کی تنگی اور فراوانی اللہ کی مشیت کے تحت ہے۔ اس کا اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض اوقات اللہ ایک ایسے شخص کو بھی رزق فراواں دے دیتا ہے جس سے وہ ناراض ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کو بھی دیتا ہے جس سے راضی ہوتا ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ اہل شر اور اہل خیر دونوں غریب اور نادار ہوتے ہیں لیکن تمام حالات میں علل و اسباب ایک نہیں ہوتے۔

بعض اوقات اللہ اہل شر کو زیادہ نوازتا ہے تاکہ وہ سرکشی ، فساد اور نافرمانی میں آگے بڑھ جائیں۔ یوں ان کو پکڑنا مقصود ہوتا ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ جرائم کا ارتکاب کرلیں تاکہ ان کو زیادہ سزا ملے۔ پھر اللہ ان کو دنیا میں بھی سزا دیتا ہے اور آخرت میں بھی دے گا۔ اپنی حکمت اور تدبیر کے مطابق بھی بعض اوقات اللہ اہل شر کا رزق تنگ کرتا ہے تو وہ مزید جرائم کرتے ہیں ۔ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں اور اپنی ناداری کی وجہ سے شروفساد اور ظلم و ضلالت کی حدوں کو پار کر جاتے ہیں۔

بعض اوقات اللہ اہل خیر پر بارش کردیتا ہے تاکہ وہ مزید نیکی کے کام کریں۔ اگر ان کے پاس دولت نہ ہوتی تو وہ یہ کام نہ کرسکتے اور اس لیے بھی کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں۔ دل کے ساتھ ، زبان کے ساتھ اور عمل کے ساتھ۔ وہ اپنے مال کے ذریعے ایسی نیکیاں کمائیں جو اللہ کے ہاں ان کے لیے ذخیرہ ہوں اور کبھی اہل خیر محروم کیے جاتے ہیں تاکہ محرومیت پر ان کے صبر اور شکر کو آزمایا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ وہ اللہ پر کس قدر بھروسہ کرتے ہیں۔ کس قدر رحمت کے امیدوار ہوتے ہیں اور اللہ کی تقدیر پر ان کو کس قدر یقین ہوتا ہے۔ کس قدر راضی برضا ہوتے ہیں اور رب تعالیٰ اچھا اور باقی رہنے والا ہے۔ اس طرح ان کا ذخیرہ آخرت بڑھ جاتا ہے اور اللہ ان سے بہت راضی ہوتا ہے۔

بہرحال رزق کی فراوانی اور تنگی کے جو اسباب بھی ہوں ، اور لوگوں کے اعمال اور حکمت الہیہ کے حوالے سے جو بھی سبب ہو ، حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اللہ کے ہاں مقبولیت سے بالکل علیحدہ مسئلہ ہے۔ اس کی بنا پر اللہ کے ہاں کوئی مقدم و موخر نہیں ہوتا۔ اللہ کے ہاں مقدم اور موخر ہونے کا دار و مدار اس پر ہے کہ جس شخص کے مال اور اولاد میں فراوانی دی گئی ہے وہ اپنے مال اور اولاد میں تصرف کیسے کرتا ہے۔ اسی طرح جسے رزق کی تنگی دی گئی ہے وہ کس قدر صبر وشکر کرتا ہے۔ لہٰذا مال و اولاد والا شخص اگر اپنے مال اور اولاد میں اچھا تصرف کرتا ہے تو اللہ اس کے اجر میں اضافہ کرے گا۔