ولسليمان الريح غدوها شهر ورواحها شهر واسلنا له عين القطر ومن الجن من يعمل بين يديه باذن ربه ومن يزغ منهم عن امرنا نذقه من عذاب السعير ١٢ يعملون له ما يشاء من محاريب وتماثيل وجفان كالجواب وقدور راسيات اعملوا ال داوود شكرا وقليل من عبادي الشكور ١٣
وَلِسُلَيْمَـٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌۭ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌۭ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُۥ عَيْنَ ٱلْقِطْرِ ۖ وَمِنَ ٱلْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ ١٢ يَعْمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَـٰرِيبَ وَتَمَـٰثِيلَ وَجِفَانٍۢ كَٱلْجَوَابِ وَقُدُورٍۢ رَّاسِيَـٰتٍ ۚ ٱعْمَلُوٓا۟ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكْرًۭا ۚ وَقَلِيلٌۭ مِّنْ عِبَادِىَ ٱلشَّكُورُ ١٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
حضرت سلیمان علیہ السلام نے سمندری سفر اور سمندری تجارت کو بہت ترقی دی تھی۔ انھوں نے اعلیٰ درجہ کے بادبانی جہاز تیار کيے۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا مزید فضل یہ ہوا کہ ان کے سمندری جہازوں کو اکثر موافق ہوا ملتی تھی۔ اس طرح تانبا پگھلا کر سامان بنانے کا فن بھی ان کے زمانہ میں بہت ترقی کر گیا۔ ان غیر معمولی قوتوں سے حضرت سلیمان مختلف قسم کے تعمیری اور اصلاحی کام لیتے تھے۔ انھیں میں سے ان چیزوں کی تیاری بھی تھی جن کا ذکر آیت میں کیاگیا ہے۔
انسان سراپا خدا کا احسان ہے۔اس ليے اس کے اندر سب سے زیادہ خدا کے شکر اور احسان مندی کا جذبہ ہونا چاہيے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو انسان کے اندر سب سے کم پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں انسان کو جوکچھ ملتا ہے وہ اسباب کے پردہ میں ملتاہے۔ اس ليے آدمی اس کو اسباب کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے۔ مگر یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اسباب کے ذریعہ ملتی ہوئی چیز کو خدا سے ملتاہوا دیکھے۔ بظاہر اپنی عقل اور محنت سے حاصل ہونے والی چیز کو براہِ راست خدا کا عطیہ سمجھے۔