ایک مومن جب خدا کی یاد سے سرشار ہو کر اس کی تسبیح کرتاہے تو اس وقت وہ ساری کائنات کا ہم نوا ہوتا ہے۔ زمین وآسمان کی تمام چیزیں تسبیح ِخداوندی میں اس کی شریک آواز ہوجاتی ہیں۔ تاہم کائنات کی یہ ہم نوائی خاموش زبان میں ہوتی ہے۔ مگر حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت دی کہ جب وہ تسبیح کرتے تو پہاڑ اور چڑیاں محسوس طور پر آپ کے ساتھ تسبیح خوانی میں شریک ہوجاتیں۔
اسی طرح حضرت داؤد کو اللہ تعالیٰ نے لوہے کی صنعت سکھائی۔ انھوںنے لوہے کے پگھلانے اور ڈھالنے کے فن کو ترقی دی کہ وہ نہایت باریک کڑیوں کی زرہیں بنانے لگے جن کو آدمی کپڑے کی طرح پہن سکے۔ اس وقت دنیا میں یہ فن موجود نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے براہِ راست طورپر فرشتوں کے ذریعہ یہ فن آپ کو سکھایا۔
مومن صنعت اور سائنس میں بڑی بڑی ترقیاں کرسکتا ہے۔ مگر اس کےلیے لازم ہے کہ وہ انساني ترقی کو صرف اصلاح کے دائرہ میں استعمال کرے۔ وہ جو کچھ کرے اس احساسات کے تحت کرے کہ آخر کار اس کو جواب دہی کےلیے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔