You are reading a tafsir for the group of verses 33:7 to 33:8
واذ اخذنا من النبيين ميثاقهم ومنك ومن نوح وابراهيم وموسى وعيسى ابن مريم واخذنا منهم ميثاقا غليظا ٧ ليسال الصادقين عن صدقهم واعد للكافرين عذابا اليما ٨
وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مِيثَـٰقَهُمْ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٍۢ وَإِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ ۖ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَـٰقًا غَلِيظًۭا ٧ لِّيَسْـَٔلَ ٱلصَّـٰدِقِينَ عَن صِدْقِهِمْ ۚ وَأَعَدَّ لِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًۭا ٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس منصوبہ کے تحت پیدا کیا ہے وہ امتحان ہے۔ یعنی موجودہ دنیا میں ہر قسم کے اسباب حیات دے کر اس کو آزادانہ ماحول میں رکھنا اور پھر ہر ایک کے عمل کے مطابق اس کو ابدی انعام یا ابدی سزا دینا۔

زندگی کی یہ امتحانی نوعیت لازماً یہ چاہتی ہے کہ آدمی کو اصل صورت حال سے پوری طرح با خبر کردیا جائے۔ اس مقصد کےلیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبری کا سلسلہ قائم فرمایا۔ پیغمبری کوئی لاؤڈاسپیکر کا اعلان نہیںہے۔ یہ ایک بے حد صبر آزما کام ہے۔ اس ليے تمام پیغمبروں سے نہایت اہتمام کے ساتھ یہ عہد لیا گیاکہ وہ پیغام رسانی کے اس نازک کام کو اس کے تمام آداب اور تقاضوں کے ساتھ انجام دیں گے۔ اور اس میں ہر گز کوئی ادنیٰ کوتاہی نہ کریں گے۔