’’یہودیوں کی طرح پیغمبر کو نہ ستاؤ‘‘ سے کیا مراد ہے، اس کی وضاحت ایک واقعہ سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے کہ ایک بار آپ کے پاس کچھ مال آیا۔ آپ نے اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ اس کے بعد انصارمیں سے ایک شخص نے دوسرے شخص سے کہا خدا کی قسم محمد نے اس تقسیم سے اللہ کی رضا اور آخرت کا گھر نہیں چاہا ہے (وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ الَّتِي قَسَمَهَا وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الآخِرَةَ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 3896۔ اس واقعہ کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کی رحمت موسیٰ پر ہو۔ ان کو اس سے زیادہ اذیت دی گئی مگر انھوں نے صبر کیا (رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى، لَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4335
کلام کی دوقسمیں ہیں۔ ایک ہے سدید کلام۔ دوسرا ہے غیر سدید کلام۔ سدید کلام وہ ہے جو عین مطابقِ حقیقت ہو۔ جو واقعاتی تجزیہ پر مبنی ہو۔ جو ٹھوس دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے۔ اس کے برعکس، غیر سدید کلام وہ ہے جس میں حقیقت کی رعایت شامل نہ ہو۔ جس کی بنیاد ظن وگمان پر قائم ہو جس کی حیثیت محض رائے زنی کی ہو، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کے اظہار کی۔ اول الذکر کلام مومنانہ کلام ہے اور ثانی الذکر کلام منافقانہ کلام۔