النبي اولى بالمومنين من انفسهم وازواجه امهاتهم واولو الارحام بعضهم اولى ببعض في كتاب الله من المومنين والمهاجرين الا ان تفعلوا الى اوليايكم معروفا كان ذالك في الكتاب مسطورا ٦
ٱلنَّبِىُّ أَوْلَىٰ بِٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَـٰتُهُمْ ۗ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍۢ فِى كِتَـٰبِ ٱللَّهِ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُهَـٰجِرِينَ إِلَّآ أَن تَفْعَلُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِكُم مَّعْرُوفًۭا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِى ٱلْكِتَـٰبِ مَسْطُورًۭا ٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

پیغمبراپني زندگی میں ذاتی طورپر اور وفات کے بعد اصولی طورپر اہلِ ایمان کےلیے سب سے زیادہ مقدم حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر دنیا میں خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔پیغمبر کی تعلیمات کی عظمت کو قائم رکھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس کا وجود لوگوں کی نظر میں مقدس وجود ہو۔ حتیٰ کہ اس کی بیویاں بھی لوگوں کےلیے ماؤں کی طرح قابل احترام قرار پائیں۔ پیغمبر اور آپ کی ازواج کے بعد امت کے بقیہ لوگوں کے تعلقات کی اساس یہ ہے کہ رحمی رشتے رکھنے والے الاقرب فالاقرب کے اصول پر ایک دوسرے کے حقدار ٹھہریں گے۔ دینی ضرورت کے تحت وقتی طورپر غیر رشتہ داروں میں حقوق کی شرکت قائم کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ ہجرت کے بعد ابتدائی زمانہ میں مدینہ میں کیاگیا۔ مگر مستقل معاشرتی انتظام کے اعتبار سے حقیقی رشتہ دار ہی اولیٰ اور اقرب ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔