يا ايها النبي انا احللنا لك ازواجك اللاتي اتيت اجورهن وما ملكت يمينك مما افاء الله عليك وبنات عمك وبنات عماتك وبنات خالك وبنات خالاتك اللاتي هاجرن معك وامراة مومنة ان وهبت نفسها للنبي ان اراد النبي ان يستنكحها خالصة لك من دون المومنين قد علمنا ما فرضنا عليهم في ازواجهم وما ملكت ايمانهم لكيلا يكون عليك حرج وكان الله غفورا رحيما ٥٠
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ إِنَّآ أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَٰجَكَ ٱلَّـٰتِىٓ ءَاتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّـٰتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَـٰلَـٰتِكَ ٱلَّـٰتِى هَاجَرْنَ مَعَكَ وَٱمْرَأَةًۭ مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِىِّ إِنْ أَرَادَ ٱلنَّبِىُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةًۭ لَّكَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۗ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِىٓ أَزْوَٰجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌۭ ۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا ٥٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

عام مسلمانوں کےلیے بیویوں کی آخری تعداد کو چار تک محدود رکھاگیا ہے۔ مگر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کےلیے یہ پابندی نہیں تھی۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی خصوصی اجازت کے تحت چار سے زیادہ نکاح کیا۔ اس کی مصلحت یہ تھی کہ رسول کے اوپر کوئی تنگی نہ رہے۔

تنگی سے مراد پیغمبرانہ مشن کی ادائیگی میں تنگی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مختلف دعوتی اور اصلاحی تقاضوں کے تحت ضرورت محسوس ہوتی تھی کہ آپ زیادہ عورتوں کو اپنے نکاح میں لاسکیں۔ اسی دینی مصلحت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے آپ کےلیے چار کی قید نہیں رکھی۔ مثال کے طورپر حضرت عائشہ سے نکاح میں یہ مصلحت تھی کہ ایک کم عمر اور ذہین خاتون آپ کی مستقل صحبت میں رہیں تاکہ آپ کے بعد لمبی مدت تک لوگوں کو دین سکھاتی رہیں۔ چنانچہ حضرت عائشہ آپ کی وفات کے بعد نصف صدی تک امت کےلیے ایک زندہ کیسٹ ریکارڈر بنی رہیں۔ اسی طرح حضرت ميمونه بنت الحارث اور حضرت اُم حبیبہ سے نکاح کا یہ فائدہ ہوا کہ خالد بن ولید اور ابو سفیان بن حرب کی مخالفت ہمیشہ کےلیے ختم ہوگئی، وغیرہ۔