You are reading a tafsir for the group of verses 33:4 to 33:5
ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه وما جعل ازواجكم اللايي تظاهرون منهن امهاتكم وما جعل ادعياءكم ابناءكم ذالكم قولكم بافواهكم والله يقول الحق وهو يهدي السبيل ٤ ادعوهم لابايهم هو اقسط عند الله فان لم تعلموا اباءهم فاخوانكم في الدين ومواليكم وليس عليكم جناح فيما اخطاتم به ولاكن ما تعمدت قلوبكم وكان الله غفورا رحيما ٥
مَّا جَعَلَ ٱللَّهُ لِرَجُلٍۢ مِّن قَلْبَيْنِ فِى جَوْفِهِۦ ۚ وَمَا جَعَلَ أَزْوَٰجَكُمُ ٱلَّـٰٓـِٔى تُظَـٰهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَـٰتِكُمْ ۚ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَآءَكُمْ أَبْنَآءَكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَٰهِكُمْ ۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِى ٱلسَّبِيلَ ٤ ٱدْعُوهُمْ لِـَٔابَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِ ۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓا۟ ءَابَآءَهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمْ ۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌۭ فِيمَآ أَخْطَأْتُم بِهِۦ وَلَـٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورًۭا رَّحِيمًا ٥
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آدمی کے سینے میں دو دل نہ ہونا بتاتا ہے کہ تضاد فکری خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہے۔جب انسان کو ایک دل دیاگیا تو اس کی سوچ بھی ایک ہوني چاہيے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی دل میں بیک وقت اخلاص بھی ہو اور نفاق بھی، خدا پرستی بھی ہو اور زمانہ پرستی بھی، انصاف بھی ہو اور ظلم بھی، گھمنڈ بھی ہو اور تواضع بھی۔ آدمی دونوں میں سے کوئی ایک ہی ہوسکتا ہے اور اس کو ایک ہی ہونا چاہيے۔

یہ ایک اصولی بات ہے۔ اسی کے تحت زمانۂ جاہلیت کی رسمیں مثلاًظِہار و تبنیت آتی ہیں۔ عرب جاہلیت کا ایک رواجی قانون یہ تھاکہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہہ دے کہ أنْتِ عَلَيَّ كظَهْر أمِّي (تو میرے اوپر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے) تو اس کی بیوی اس کے اوپر ہمیشہ کےلیے حرام ہوجاتی تھی جس طرح کسی کی ماں اس کےلیے حرام ہوتی ہے۔ اس کو ظِہار کہتے ہیں۔ اسی طرح متبنّی (منھ بولے بیٹے) کے معاملے میں بھی ان کا عقیدہ تھا کہ وہ بالکل صلبی بیٹے کی طرح ہوجاتا ہے۔ اس کو ہر معاملہ میں وہی درجہ دے دیاگیا تھاجو حقیقی اولاد کا ہوتاہے۔ قرآن نے اس رواج کو بالکل ختم کردیا۔ قرآن میں اعلان کیاگیا کہ یہ تخلیقی نظام کے سراسر خلاف ہے کہ حقیقی ماں اور زبان سے کہی ہوئی ماں یا حقیقی بیٹا اور منھ بولا بیٹا دونوں کی حیثیت بالکل ایک ہوجائے۔

آدمی اگر بے خبری میں کوئی غلطی کرے تو وہ خدا کے یہاں قابلِ معافی ہے۔ مگر جب کسی معاملہ کی حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے، اس کے باوجود آدمی اپنی غلط روش کو نہ چھوڑے تو اس کے بعد وہ قابلِ معافی نہیں رہتا۔