ایک شخص کسی عورت سے نکاح کرے لیکن ملاقات کی نوبت آنے سے پہلے اس کو طلاق دے دے تو ایسی حالت میں عدت کی وہ پابندی نہیں ہے جو عام نکاح میں ہوتی ہے۔ البتہ اسلامی اخلاق کا تقاضا ہے کہ جس طرح باعزت انداز میں دونوں کے درمیان تعلق کا معاملہ ہوا تھا اسی طرح باعزت طورپر دونوں کے درمیان جدائی کا معاملہ بھی کیا جائے۔ اس خاتون کا اگر مہر باندھا گیا تھا تو مرد کو مقررہ مہر کا نصف دینا ہوگا ورنہ عرف اور حیثیت کے مطابق کچھ دے کر خوب صورتی سے رخصت کردیا جائے۔ عورت اگر چاہے تو فوراً ہی دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔ اس صورت میں اس کےلیے عدت گزارنے کی شرط نہیں۔