اس آیت میں بتایاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مرد یا ایک عورت کو جیسا دیکھنا چاہتا ہے وہ کیا ہے۔ وہ حسب ذیل دس صفات ہیں — اسلام، ایمان، قنوت، صدق، صبر، خشوع، صدقہ، روزہ، عفت، ذکر اللہ۔
ان دس الفاظ میں اسلامی عقیدہ اور اسلامی کردار کے تمام پہلو سمٹ آئے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہ کے یہاں مغفرت اور انعام کا امیدوار ہو اس کو ایسا بننا چاہیے کہ وہ اللہ کے حکم کے آگے جھکنے والا ہو۔ وہ اللہ پر یقین کرنے والا ہو۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کےلیے یکسو ہوجائے۔ اس کی زندگی قول اور فعل کے تضاد سے خالی ہو۔ وہ ہر حال میں جما رہنے والاہو۔ اللہ کی بڑائی کے احساس نے اسے متواضع بنادیا ہو۔ وہ دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کو بھی اپنی ذمہ داری شمار کرتا ہو۔ وہ روزہ دار ہو جو نفس کو کنٹرول کرنے کی تربیت ہے۔ وہ شہوانی خواہشات کے مقابلہ میں عفیف اور پاک دامن ہو۔ اس کے صبح وشام اللہ کی یاد میں بسر ہونے لگیں۔
یہ اوصاف جس طرح مردوں سے مطلوب ہیں اسی طرح وہ عورتوں سے بھی مطلوب ہیں۔ ان اوصاف کے اظہار کا دائرہ بعض اعتبار سے دونوں کے درمیان مختلف ہے۔ مگر جہاں تک خود اوصاف کا تعلق ہے وہ دونوں کےلیے یکساں ہے۔ کوئی عورت ہو یا کوئی مرد وہ اسی وقت خداکے یہاں قابل قبول ٹھہرے گا جب کہ وہ ان دس صفتوں سے متصف ہو کر خدا کے یہاں پہنچے۔